ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لَا تُؤْمِنُوا: یقین نہ کرو، تصدیق نہ کرو۔
- تَبِعَ دِینَکُمْ: تمہارے دین کا پیروکار ہو۔
- الْهُدَى: ہدایت، راہِ راست۔
- یُحَاجُّوکُمْ: تم سے حجت کریں، دلیل سے تمہیں مغلوب کریں۔
- الْفَضْلُ: فضل و کرم، عطیہ۔
- وَاسِعٌ: کشادہ، بے حد و حساب۔
- عَلِیمٌ: جاننے والا، سب کچھ جاننے والا۔
تفسیر:
یہ آیت اہلِ کتاب (یہود) کی ایک اور سازش کا پردہ فاش کرتی ہے۔ انہوں نے اپنے ماننے والوں کو ہدایت کی تھی کہ "تم صرف اسی کی تصدیق کرو جو تمہارے دین کا پیروکار ہو، یعنی یہودی ہو۔" ان کا خیال تھا کہ اگر مسلمانوں کو ان کے علم اور کتاب کا صحیح علم ہو گیا تو وہ ان پر فوقیت حاصل کر لیں گے، یا پھر وہ ان سے ان کے رب کے پاس حجت کریں گے اور انہیں مغلوب کر دیں گے۔ یہ ان کی تنگ نظری اور حسد کا مظہر تھا۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: "اے نبی! ان سے کہہ دو کہ ہدایت تو صرف اللہ کی ہدایت ہے۔" یعنی ہدایت دینا، دل کھولنا، اور سمجھ عطا کرنا یہ سب اللہ کے ہاتھ میں ہے، نہ کہ کسی قوم یا گروہ کے پاس۔ اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جو کسی خاص قوم کا امتیاز ہو۔
پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی ایک اور خرابی کا ذکر کیا: وہ یہ کہتے تھے کہ "کسی کو وہ علم اور فضل نہ دیا جائے جو تمہیں دیا گیا ہے، اور نہ ہی وہ تم سے حجت کر سکیں۔" اللہ نے فرمایا: "کہہ دو کہ فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔" یعنی فضل و کرم، علم، نبوت، اور ہدایت یہ سب اللہ کی مشیت سے ملتا ہے، کسی کی میراث نہیں۔ اللہ اپنے فضل سے جسے چاہے نواز دیتا ہے، اور یہ فضل صرف ایک قوم تک محدود نہیں۔
آخر میں فرمایا: "اللہ بڑی وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔" یعنی اللہ کا فضل وسیع ہے، اس کی رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے، اور وہ خوب جانتا ہے کہ یہ فضل کسے دینا ہے اور کسے نہیں۔ وہ اپنے بندوں کے دلوں اور نیتوں سے واقف ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ہدایت اور فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے، کسی خاص قوم، نسل، یا گروہ کا حق نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو ایک عالمگیر دین بنایا ہے، جو ہر انسان کے لیے ہے جو اسے قبول کرے۔ ہمیں اپنے آپ کو دوسروں سے برتر نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ اللہ کے فضل کا شکر ادا کرنا چاہیے اور دوسروں کے لیے بھی ہدایت کی دعا کرنی چاہیے۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے علم اور دین کو صرف اپنے تک محدود نہیں رکھنا، بلکہ دوسروں تک پہنچانا ہے، کیونکہ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور وہ جسے چاہے اپنے فضل سے نواز دیتا ہے۔ اللہ کی رحمت وسیع ہے، اور اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔
📜 آیت 71-75 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 73
سورہ آل عمران آیت 73 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اپنے دین کے پیرو کے سوا کسی اور کے…سورہ آیت 73/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 71–75. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








