اور اس کو یہ بھی نہیں کہنا چاہیے کہ تم فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا بنالو بھلا جب تم مسلمان ہو چکے تو کیا اسے زیبا ہے کہ تمہیں کافر ہونے کو کہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَرْبَابًا: رب (یعنی مالک اور معبود) کی جمع، جس کا مطلب ہے کسی کو خدا کے برابر یا اس کی جگہ معبود بنانا۔
أَيَأْمُرُكُم: کیا وہ تمہیں حکم دیتا ہے؟ (یہ استفہام انکاری ہے، یعنی یہ ہو ہی نہیں سکتا)۔
بِالْكُفْرِ: کفر کا حکم دینا، یعنی اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت یا شرک کا حکم دینا۔
تفسیر:
یہ آیت مبارکہ ان لوگوں کے خیالات کی تردید کر رہی ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ انبیاء علیہم السلام اپنی امتوں کو اپنی عبادت یا اپنے آپ کو رب بنانے کا حکم دیتے ہیں، یا یہ کہ وہ لوگوں کو فرشتوں اور نبیوں کو معبود بنانے کی اجازت دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کسی نبی کا یہ کام نہیں اور نہ ہی یہ اس کے شایانِ شان ہے کہ وہ تمہیں حکم دے کہ فرشتوں اور نبیوں کو اپنا رب بنا لو۔
یہاں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے عقیدے کی اصلاح فرما رہا ہے جنہوں نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہہ کر ان کی عبادت شروع کر دی تھی، اور اہلِ کتاب نے عُزیر اور مسیح کو اللہ کا بیٹا قرار دے کر انہیں معبود بنا لیا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نبیوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ کی توحید، اس کی عبادت اور اس کے احکام کی تعلیم دیں، نہ کہ لوگوں کو اپنی یا کسی اور مخلوق کی عبادت کی دعوت دیں۔
پھر اللہ تعالیٰ استفہامِ انکاری کے انداز میں فرماتا ہے: "کیا وہ (نبی) تمہیں کفر کا حکم دے سکتا ہے جبکہ تم مسلمان ہو چکے ہو؟" یعنی یہ بالکل ناممکن اور محال ہے کہ کوئی نبی، جو خود اللہ کا برگزیدہ بندہ اور اس کا رسول ہو، لوگوں کو اللہ کے ساتھ کفر اور شرک کی دعوت دے۔ نبیوں کی بعثت ہی اس لیے ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو کفر سے نکال کر ایمان کی طرف لائیں، اور شرک سے نکال کر توحید کی طرف رہنمائی کریں۔
یہ آیت ہمارے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں، کسی نبی، فرشتے یا ولی کو اللہ کا شریک نہ بنائیں۔ انبیاء علیہم السلام تو صرف اللہ کے بندے اور رسول ہیں، ان کی تعظیم اور محبت ضروری ہے، لیکن انہیں رب نہیں بنایا جا سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توحید خالص پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں شرک اور کفر کے تمام اقسام سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
اور ان (اہلِ کتاب) میں بعضے ایسے ہیں کہ کتاب (تورات) کو زبان مروڑ مروڑ کر پڑھتے ہیں تاکہ تم سمجھو کہ جو کچھ وہ پڑھتے ہیں کتاب میں سے ہے حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہے اور کہتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے (نازل ہوا) ہے حالانکہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتا اور خدا پر جھوٹ بولتے ہیں اور (یہ بات) جانتے بھی ہیں
کسی آدمی کو شایاں نہیں کہ خدا تو اسے کتاب اور حکومت اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ خدا کو چھوڑ کر میرے بندے ہو جاؤ بلکہ (اس کو یہ کہنا سزاوار ہے کہ اے اہلِ کتاب) تم (علمائے) ربانی ہو جاؤ کیونکہ تم کتابِ (خدا) پڑھتے پڑھاتے رہتے ہو
اور جب خدا نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جب میں تم کو کتاب اور دانائی عطا کروں پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر آئے جو تمہاری کتاب کی تصدیق کرے تو تمھیں ضرور اس پر ایمان لانا ہوگا اور ضرور اس کی مدد کرنی ہوگی اور (عہد لینے کے بعد) پوچھا کہ بھلا تم نے اقرار کیا اور اس اقرار پر میرا ذمہ لیا (یعنی مجھے ضامن ٹہرایا) انہوں نے کہا (ہاں) ہم نے اقرار کیا (خدا نے) فرمایا کہ تم (اس عہد وپیمان کے) گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں
سورہ آل عمران آیت 80 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اس کو یہ بھی نہیں کہنا چاہیے کہ تم…
سورہ آیت 80/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 78–82. اردو ترجمہ: فارسی.
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔