ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَذَقْنَا: ہم نے چکھایا (یعنی نعمت کا مزہ دیا)
- رَحْمَةً: نعمت، رحمت (جیسے بارش، صحت، خوشحالی)
- فَرِحُوا بِهَا: اس پر خوش ہوئے (لیکن فرحِ بطر یعنی تکبر اور غرور والی خوشی)
- سَيِّئَةٌ: مصیبت، تکلیف (جیسے بیماری، فقر، قحط)
- بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ: ان کے اعمال کی وجہ سے جو انہوں نے آگے بھیجے
- يَقْنَطُونَ: مایوس ہو جاتے ہیں، رحمتِ الٰہی سے ناامید ہو جاتے ہیں
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں انسان کی کمزور فطرت کا نقشہ کھینچتے ہیں۔ جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت سے نوازتے ہیں — جیسے صحت، خوشحالی، بارش، رزق کی فراوانی — تو وہ اس پر خوش ہوتے ہیں، لیکن یہ خوشی شکر کی خوشی نہیں ہوتی، بلکہ غرور اور تکبر کی خوشی ہوتی ہے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ یہ نعمت کس نے دی ہے، اور اپنے آپ کو ہی سب کچھ سمجھنے لگتے ہیں۔
پھر جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے — بیماری، فقر، خشک سالی، خوف — جو ان کے اپنے برے اعمال اور گناہوں کا نتیجہ ہوتی ہے، تو وہ فوراً مایوس ہو جاتے ہیں، اللہ کی رحمت سے ناامید ہو جاتے ہیں۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ مصیبت بھی اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے، اور رحمت کی طرح مصیبت بھی عارضی ہے۔
یہ ہے انسان کی کمزوری — نعمت میں غرور، مصیبت میں مایوسی۔ لیکن مومن کا حال اس سے مختلف ہوتا ہے۔ مومن نعمت پر شکر کرتا ہے اور مصیبت پر صبر کرتا ہے، اور دونوں حالتوں میں اللہ سے جڑا رہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اللہ کی رحمت وسیع ہے، اور مایوسی تو کفر کی علامت ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک اہم سبق سکھاتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہماری زندگی میں اتار چڑھاؤ کیوں آتے ہیں؟ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے — نعمت ہو یا مصیبت، دونوں اللہ کی طرف سے ہیں۔ نعمت پر شکر کریں، تو نعمت بڑھتی ہے۔ مصیبت پر صبر کریں، تو اللہ اس کا بدلہ دیتا ہے۔ لیکن اگر ہم نعمت پر غرور کریں اور مصیبت پر مایوس ہو جائیں، تو ہم نقصان میں رہیں گے۔
اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہوں! چاہے گناہ کتنے ہی زیادہ ہوں، اللہ کی رحمت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ جیسے حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اے میرے بندو! تم رات اور دن گناہ کرتے رہو، اور میں تمہارے گناہ معاف کرتا رہوں گا، جب تک تم مجھ سے معافی مانگتے رہو گے۔" تو مایوسی شیطان کا ہتھیار ہے، اس سے بچیں اور اللہ کی رحمت سے جڑے رہیں۔
یاد رکھیں، یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے — کبھی خوشی، کبھی غم۔ اصل کامیابی تو اس شخص کی ہے جو دونوں حالتوں میں اللہ کو یاد رکھے اور اس کی رضا پر راضی رہے۔
📜 آیت 34-38 — روم
ترجمہ — روم 36
سورہ روم آیت 36 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتے…سورہ آیت 36/60 — روم الروم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: روم سنیں, روم ترجمہ, روم mp3, روم pdf. آیت 34–38. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








