روم · 37/60
ترجمہ تلفظ — روم
أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ۝٣٧
Awalam yaraw annal laaha yabsutur rizqa limai yashaaa`u wa yaqdir; inna fee zaalika la Aayaatil liqawminy yu`minoon
📖 اردو ترجمہ
کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کرتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کرتا ہے۔ بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لئے نشانیاں ہیں

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • يَبْسُطُ الرِّزْقَ: رزق کو کشادہ کرتا ہے، وسعت دیتا ہے۔
  • وَيَقْدِرُ: تنگ کرتا ہے، کم کر دیتا ہے۔

تفسیر:

کیا ان لوگوں نے اتنا بھی نہیں دیکھا اور نہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے کشادہ رزق دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے تنگ رزق دیتا ہے؟ یہ سب کچھ اس کی حکمت اور مشیت سے ہوتا ہے۔ کبھی وہ کسی کو دولت سے نوازتا ہے تاکہ آزمائے کہ وہ شکر کرتا ہے یا ناشکری کرتا ہے، اور کبھی کسی پر تنگی ڈالتا ہے تاکہ دیکھے کہ وہ صبر کرتا ہے یا بے صبری اور شکایت کرتا ہے۔

یہ وسعت اور تنگی، دونوں حالتیں اللہ کی طرف سے ہیں، اور اس میں بندوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ لیکن یہ نشانیاں صرف ان لوگوں کو سمجھ آتی ہیں جو ایمان رکھتے ہیں، کیونکہ وہ اللہ کی حکمت اور رحمت پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اللہ جو کچھ بھی کرتا ہے، بہتر سے بہتر کرتا ہے، چاہے وہ ظاہری طور پر کسی کو فائدہ دے یا آزمائش میں ڈالے۔

مومن کی نظر میں رزق کی کشادگی اللہ کا فضل ہے اور تنگی اس کی طرف سے ایک امتحان، اور دونوں میں خیر ہے۔ جب کہ غیر مومن صرف ظاہری حالات کو دیکھتا ہے، وہ کشادگی پر گھمنڈ کرتا ہے اور تنگی پر مایوس ہو جاتا ہے۔

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہم اپنے رب پر مکمل بھروسہ رکھیں، ہر حالت میں اس کا شکر ادا کریں، اور یقین رکھیں کہ اللہ جو مصلحت ہوتی ہے وہی کرتا ہے۔ جو لوگ ایمان کی روشنی میں دنیا کے حالات کو دیکھتے ہیں، وہ کبھی مایوس نہیں ہوتے اور نہ ہی کبھی سرکش بنتے ہیں، بلکہ ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی رہتے ہیں۔



📜 آیت 35-39 — روم

35أَمْ أَنزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطَانًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوا بِهِ يُشْرِكُونَ
کیا ہم نے ان پر کوئی ایسی دلیل نازل کی ہے کہ اُن کو خدا کے ساتھ شرک کرنا بتاتی ہے
36وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوا بِهَا ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ إِذَا هُمْ يَقْنَطُونَ
اور جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو اُس سے خوش ہو جاتے ہیں اور اگر اُن کے عملوں کے سبب جو اُن کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں کوئی گزند پہنچے تو نااُمید ہو کر رہ جاتے ہیں
37أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی جس کے لئے چاہتا ہے رزق فراخ کرتا ہے اور (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگ کرتا ہے۔ بیشک اس میں ایمان لانے والوں کے لئے نشانیاں ہیں
38فَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
تو اہلِ قرابت اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق دیتے رہو۔ جو لوگ رضائے خدا کے طالب ہیں یہ اُن کے حق میں بہتر ہے۔ اور یہی لوگ نجات حاصل کرنے والے ہیں
39وَمَا آتَيْتُم مِّن رِّبًا لِّيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُو عِندَ اللَّهِ ۖ وَمَا آتَيْتُم مِّن زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ
اور جو تم سود دیتے ہو کہ لوگوں کے مال میں افزائش ہو تو خدا کے نزدیک اس میں افزائش نہیں ہوتی اور جو تم زکوٰة دیتے ہو اور اُس سے خدا کی رضا مندی طلب کرتے ہو تو (وہ موجبِ برکت ہے اور) ایسے ہی لوگ (اپنے مال کو) دو چند سہ چند کرنے والے ہیں
رومقرآن فہرست
60آیت
مکیRevelation
37آیت

ترجمہ — روم 37

سورہ روم آیت 37 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا ہی جس کے…

سورہ آیت 37/60 — روم الروم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: روم سنیں, روم ترجمہ, روم mp3, روم pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں