روم · 52/60
ترجمہ تلفظ — روم
فَإِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَلَا تُسۡمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوۡاْ مُدۡبِرِينَ  ۝٥٢
Fa innaka laa tusmi`ul mawtaa wa laa tusmi`us summad du`aaa`a izaa wallaw mudbireen
📖 اردو ترجمہ
تو تم مردوں کی (بات) نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو جب وہ پیٹھ پھیر کر پھر جائیں آواز سنا سکتے ہو
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الْمَوْتَىٰ: مردے، یعنی وہ لوگ جن کے دل مردہ ہو چکے ہیں۔
  • الصُّمَّ: بہرے، یعنی وہ لوگ جو حق سننے سے کنی کتراتے ہیں۔
  • الدُّعَاءَ: پکارنا، حق کی طرف بلانا۔
  • وَلَّوْا مُدْبِرِينَ: پیٹھ پھیر کر چلے جانا، منہ موڑ کر الٹے قدم پلٹ جانا۔

تفسیر:

اے محبوب رسول! آپ کا دل چاہتا ہے کہ ہر شخص ایمان لے آئے، لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہدایت دینا آپ کے اختیار میں نہیں، بلکہ یہ اللہ کا کام ہے۔ آپ ان لوگوں کو کیسے سنائیں گے جو مردہ دلوں کے مالک ہیں؟ جس طرح مردہ انسان آپ کی آواز نہیں سن سکتا، اسی طرح وہ لوگ بھی جن کے دل ایمان کی زندگی سے محروم ہو چکے ہیں، آپ کی دعوت کا کوئی اثر نہیں لیتے۔

اور جس طرح بہرے انسان کو آواز دے کر سنانا بیکار ہے، خاص طور پر جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا جا رہا ہو، تو اس کی سماعت بالکل بند ہو جاتی ہے۔ یہی حال ان کافروں کا ہے جو حق سے منہ موڑتے ہیں اور آپ کی دعوت سے اعراض کرتے ہیں۔ وہ اپنے دلوں کی اندھی اور کانوں کی بہری پن کی وجہ سے آپ کی پکار کو سن کر بھی نہیں سنتے، اور دیکھ کر بھی نہیں دیکھتے۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے انہیں مردوں اور بہروں سے تشبیہ دی ہے کیونکہ ان کی حالت بالکل انہی جیسی ہے — وہ حق سے فائدہ نہیں اٹھاتے، نہ نصیحت قبول کرتے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دعوت دینا چھوڑ دیں، بلکہ آپ کا فرض صرف پہنچانا ہے، ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی دعوت اور تبلیغ میں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کچھ لوگ حق سننے سے انکار کرتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اپنی کوشش ترک کر دیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنا کام کرتے رہیں — نیکی کا حکم دیتے رہیں، برائی سے روکتے رہیں، اور اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ یاد رکھیں! جس طرح مردہ اور بہرے سن نہیں سکتے، اسی طرح وہ لوگ بھی جو ضد اور تکبر کی وجہ سے حق سے منہ موڑتے ہیں، ان کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے۔ لیکن جو لوگ سچے دل سے حق کی تلاش میں ہیں، اللہ ان کے دلوں کو کھول دیتا ہے اور انہیں ایمان کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو مردہ نہ بنائیں، بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں اپنے ایمان کو زندہ رکھیں، کیونکہ ایمان ہی وہ نور ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیابی عطا کرتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 50-54 — روم

50فَٱنظُرۡ إِلَىٰٓ ءَاثَٰرِ رَحۡمَتِ ٱللَّهِ كَيۡفَ يُحۡيِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَآۚ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمُحۡيِ ٱلۡمَوۡتَىٰۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيرٌ 
تو (اے دیکھنے والے) خدا کی رحمت کی نشانیوں کی طرف دیکھ کہ وہ کس طرح زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کرتا ہے۔ بیشک وہ مردوں کو زندہ کرنے والا ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
51وَلَئِنۡ أَرۡسَلۡنَا رِيحًا فَرَأَوۡهُ مُصۡفَرًّا لَّظَلُّواْ مِنۢ بَعۡدِهِۦ يَكۡفُرُونَ 
اور اگر ہم ایسی ہوا بھیجیں کہ وہ (اس کے سبب) کھیتی کو دیکھیں (کہ) زرد (ہو گئی ہے) تو اس کے بعد وہ ناشکری کرنے لگ جائیں
52فَإِنَّكَ لَا تُسۡمِعُ ٱلۡمَوۡتَىٰ وَلَا تُسۡمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوۡاْ مُدۡبِرِينَ 
تو تم مردوں کی (بات) نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو جب وہ پیٹھ پھیر کر پھر جائیں آواز سنا سکتے ہو
53وَمَآ أَنتَ بِهَٰدِ ٱلۡعُمۡيِ عَن ضَلَٰلَتِهِمۡۖ إِن تُسۡمِعُ إِلَّا مَن يُؤۡمِنُ بِـَٔايَٰتِنَا فَهُم مُّسۡلِمُونَ 
اور نہ اندھوں کو اُن کی گمراہی سے (نکال کر) راہ راست پر لاسکتے ہو۔ تم تو انہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں سو وہی فرمانبردار ہیں
54۞ ٱللَّهُ ٱلَّذِي خَلَقَكُم مِّن ضَعۡفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعۡدِ ضَعۡفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنۢ بَعۡدِ قُوَّةٍ ضَعۡفًا وَشَيۡبَةًۚ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِيمُ ٱلۡقَدِيرُ 
خدا ہی تو ہے جس نے تم کو (ابتدا میں) کمزور حالت میں پیدا کیا پھر کمزوری کے بعد طاقت عنایت کی پھر طاقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ صاحب دانش اور صاحب قدرت ہے
رومقرآن فہرست
60آیت
مکیRevelation
52آیت

ترجمہ — روم 52

سورہ آیت 52/60 — روم الروم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: روم سنیں, روم ترجمہ, روم mp3, روم pdf. آیت 50–54. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں