ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الْعُمْی: وہ لوگ جن کے دل اندھے ہو چکے ہیں، یعنی حق کو دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔
- ضَلَالَتِهِمْ: ان کی گمراہی اور گمراہی کی حالت۔
- تُسْمِعُ: تم سناتے ہو، یعنی مؤثر طریقے سے سنانا۔
- مُسْلِمُونَ: اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والے، اطاعت گزار۔
تفسیر:
اے نبیِ مکرم! آپ ان لوگوں کو ہدایت نہیں دے سکتے جن کے دل اندھے ہو چکے ہیں، کیونکہ ان کی بصیرت ختم ہو چکی ہے اور وہ حق کو قبول کرنے کی توفیق سے محروم ہیں۔ آپ کا کام صرف پیغام پہنچانا ہے، ہدایت دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
آپ صرف ان لوگوں کو سنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں اور انہیں قبول کرنے کی سعادت حاصل کر چکے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو اللہ کے حکم کے سامنے جھک جاتے ہیں، اپنے رب کی اطاعت کرتے ہیں اور اپنے ایمان کی دولت کو اپنے دلوں میں محفوظ رکھتے ہیں۔
یہاں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ پر رنج نہ ہو اگر کچھ لوگ ایمان نہیں لاتے، کیونکہ ہدایت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جو شخص اللہ کی آیات پر ایمان لاتا ہے، وہی حقیقی طور پر سنتا ہے اور اس کا دل کھل جاتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے دلوں کو اندھا نہیں ہونے دینا چاہیے۔ جو شخص اللہ کی آیات پر غور کرتا ہے اور انہیں قبول کرتا ہے، اس کا دل روشن ہو جاتا ہے اور وہ سچی سعادت پاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو صاف رکھیں، اللہ کی آیات پر ایمان لائیں اور اپنے رب کے سامنے سر تسلیم خم کریں، تاکہ ہم بھی ان مخلص بندوں میں شامل ہو سکیں جنہوں نے دنیا اور آخرت کی کامیابی حاصل کی۔ یاد رکھیں، ایمان وہ روشنی ہے جو دل کو اندھے پن سے بچاتی ہے اور انسان کو سیدھے راستے پر چلاتی ہے۔
📜 آیت 51-55 — روم
ترجمہ — روم 53
سورہ آیت 53/60 — روم الروم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: روم سنیں, روم ترجمہ, روم mp3, روم pdf. آیت 51–55. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








