Wa laa tanfa`ush shafaa`atu `indahooo illaa liman azina lah; hattaaa izaa fuzzi`a `an quloobihim qaaloo maazaa qaala Rabbukum; qaalul haqq, wa Huwal `Aliyul Kabeer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور خدا کے ہاں (کسی کے لئے) سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لئے جس کے بارے میں وہ اجازت بخشے۔ یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے اضطراب دور کردیا جائے گا تو کہیں گے تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے۔ (فرشتے) کہیں گے کہ حق (فرمایا ہے) اور وہ عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
شفاعت نزد خدا سود نكند، مگر در باره كسى كه او خود اجازت دهد. و چون بيم از دلهايشان برود، گويند: پروردگارتان چه گفت؟ گويند: سخن حق گفت. و او بلندمرتبه و بزرگ است.
اور خدا کے ہاں (کسی کے لئے) سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لئے جس کے بارے میں وہ اجازت بخشے۔ یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے اضطراب دور کردیا جائے گا تو کہیں گے تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے۔ (فرشتے) کہیں گے کہ حق (فرمایا ہے) اور وہ عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
تُفَزَّعُ: خوف اور گھبراہٹ دور کر دی جائے۔
فُزِّعَ عَن قُلُوبِهِم: ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی گئی۔
الْعَلِیُّ: بلند مرتبہ، جو ہر چیز سے بالا تر ہو۔
الْکَبِیرُ: عظیم الشان، جس کی عظمت کے آگے ہر چیز چھوٹی ہو۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت کا یہ عالم ہے کہ اس کے حضور کسی کی شفاعت کسی کے لیے نفع نہیں دے سکتی، مگر صرف اس شخص کے لیے جسے اللہ خود شفاعت کی اجازت دے۔ یہ اجازت بھی اللہ اپنے پسندیدہ بندوں ہی کو دیتا ہے، جن سے وہ راضی ہوتا ہے۔ اللہ کی بڑائی کا اندازہ اس سے لگائیے کہ جب وہ وحی کے ذریعے کلام فرماتا ہے تو آسمان والے اس کی ہیبت سے کانپ جاتے ہیں، ان کے دل گھبراہٹ سے بھر جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب یہ خوف دور ہوتا ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں: "تمہارے رب نے کیا فرمایا؟" تو جواب دیتے ہیں: "اس نے حق فرمایا۔" یعنی اللہ کا قول ہمیشہ حق اور سچ ہوتا ہے، اس میں کوئی خلاف واقعہ بات نہیں ہوتی۔
اور وہ اللہ اپنی ذات، اپنے اختیار اور اپنی قدرت کے اعتبار سے بلند ہے، ہر چیز اس کے تابع ہے، اور وہ اپنی عظمت میں ایسا کبیر ہے کہ اس کی کبریائی کے سامنے سارا جہان حقیر ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں اللہ کی عظمت کا احساس ہوتا ہے کہ وہ کس قدر بڑا ہے، اس کی ہیبت سے فرشتے تک کانپ جاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے دلوں میں اللہ کی محبت اور اس کی عظمت کا خوف پیدا کریں۔ جب ہم نماز میں کھڑے ہوں، قرآن پڑھیں، یا دعا کریں تو یاد رکھیں کہ ہم اس ہستی سے مخاطب ہیں جو سب سے بلند اور سب سے بڑی ہے۔ یہی احساس ہمارے دلوں کو خشوع و خضوع عطا کرتا ہے اور ہمیں گناہوں سے روکتا ہے۔ اللہ کی شفاعت کا دروازہ صرف اس کے پسندیدہ بندوں کے لیے کھلا ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے اعمال کو اللہ کی رضا کے مطابق بنائیں تاکہ ہم بھی اس عظیم رحمت کے مستحق بن سکیں۔ یاد رکھیں، اللہ کا قول ہمیشہ حق ہے، اس کی ہر بات سچ ہے، اور اس کا وعدہ کبھی خلاف نہیں ہوتا۔
اور اس کا ان پر کچھ زور نہ تھا مگر (ہمارا) مقصود یہ تھا کہ جو لوگ آخرت میں شک رکھتے ہیں ان سے ان لوگوں کو جو اس پر ایمان رکھتے تھے متمیز کردیں۔ اور تمہارا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے
کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا (معبود) خیال کرتے ہو ان کو بلاؤ۔ وہ آسمانوں اور زمین میں ذرہ بھر چیز کے بھی مالک نہیں ہیں اور نہ ان میں ان کی شرکت ہے اور نہ ان میں سے کوئی خدا کا مددگار ہے
اور خدا کے ہاں (کسی کے لئے) سفارش فائدہ نہ دے گی مگر اس کے لئے جس کے بارے میں وہ اجازت بخشے۔ یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے اضطراب دور کردیا جائے گا تو کہیں گے تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے۔ (فرشتے) کہیں گے کہ حق (فرمایا ہے) اور وہ عالی رتبہ اور گرامی قدر ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔