Wa qaalal lazeena kafaroo laa taateenas Saa`ah; qul balaa wa Rabbee lataatiyannakum `Aalimul Ghaib; laa ya`zubu `anhu misqaalu zarratin fis samaawaati wa laa fil ardi wa laaa asgharu min zaalika wa laaa akbaru illaa fee kitaabim mubeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور کافر کہتے ہیں کہ (قیامت کی) گھڑی ہم پر نہیں آئے گی۔ کہہ دو کیوں نہیں (آئے گی) میرے پروردگار کی قسم وہ تم پر ضرور آکر رہے گی (وہ پروردگار) غیب کا جاننے والا (ہے) ذرہ بھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں (نہ) آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور کوئی چیز ذرے سے چھوٹی یا بڑی ایسی نہیں مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
كافران گفتند: ما را قيامت نخواهد آمد. بگو: آرى، به پروردگارم آن داناى غيب سوگند كه شما را خواهد آمد. به قدر ذرهاى يا كوچكتر از آن و يا بزرگتر از آن در آسمانها و زمين از خدا پنهان نيست، و همه در كتاب مبين آمده است.
اور کافر کہتے ہیں کہ (قیامت کی) گھڑی ہم پر نہیں آئے گی۔ کہہ دو کیوں نہیں (آئے گی) میرے پروردگار کی قسم وہ تم پر ضرور آکر رہے گی (وہ پروردگار) غیب کا جاننے والا (ہے) ذرہ بھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں (نہ) آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور کوئی چیز ذرے سے چھوٹی یا بڑی ایسی نہیں مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الساعَةُ: قیامت کا دن۔
عالم الغیب: غیب کا جاننے والا، جس سے کوئی پوشیدہ چیز مخفی نہ ہو۔
یَعزُبُ: غائب ہونا، پوشیدہ رہنا۔
مِثقالُ ذَرَّةٍ: ایک ذرہ (چھوٹی چیونٹی یا ریت کے ذرے) کے برابر وزن۔
کِتابٍ مُبین: واضح کتاب، یعنی لوحِ محفوظ۔
تفسیر:
کفار نے اپنے انکارِ آخرت اور استہزاء کے طور پر کہا کہ "قیامت ہمارے پاس نہیں آئے گی"۔ وہ اسے محال سمجھتے تھے اور مذاق اڑاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ انہیں جواب دیں: "کیوں نہیں! قسم ہے میرے رب کی، وہ ضرور تمہارے پاس آئے گی۔" یہ ایک تاکیدی قسم ہے جو ان کے انکار کے جواب میں دی گئی، تاکہ وہ جان لیں کہ قیامت کا آنا یقینی ہے، چاہے وہ اسے جھٹلائیں۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی صفتِ علم کا ذکر فرمایا کہ وہی عالم الغیب ہے، یعنی قیامت کا وقت صرف اسے معلوم ہے، اور اس کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ نہ آسمانوں میں، نہ زمین میں، ایک ذرہ کے برابر بھی کوئی چیز اس سے مخفی نہیں، نہ اس سے چھوٹی اور نہ اس سے بڑی، بلکہ سب کچھ ایک واضح کتاب (لوحِ محفوظ) میں درج ہے۔ یہ بیان اس لیے کیا گیا کہ لوگ سمجھ لیں کہ جس اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے، اس کے لیے قیامت کا لانا کچھ مشکل نہیں۔ وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور ہر چیز اس کے علم اور نوشتہ کے مطابق وقوع پذیر ہوگی۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت مومنین کے لیے بہت بڑی تسلی اور اطمینان کا ذریعہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے میں سچا ہے، اور قیامت کا آنا حق ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اس دن کے لیے تیاری کریں، نیک اعمال کریں اور اللہ کی رحمت کے امیدوار بنیں۔ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں، وہ دراصل اپنے رب کی قدرت اور علم کا انکار کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی عظمت اور اس کے علمِ کامل پر غور کریں، کیونکہ جس رب کے علم سے ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں، وہ یقیناً ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ یہ ایمان ہی ہے جو انسان کو نیکی کی راہ پر چلاتا ہے اور آخرت کی فکر دلاتا ہے۔ اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس دن کے لیے بہترین تیاری کریں اور اس کی رحمت کے سایے میں جنت کے مستحق بنیں۔ آمین۔
سب تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے (جو سب چیزوں کا مالک ہے یعنی) وہ کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور آخرت میں بھی اسی کی تعریف ہے۔ اور وہ حکمت والا خبردار ہے
جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس میں سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اُترتا ہے اور جو اس پر چڑھتا ہے سب اس کو معلوم ہے۔ اور وہ مہربان (اور) بخشنے والا ہے
اور کافر کہتے ہیں کہ (قیامت کی) گھڑی ہم پر نہیں آئے گی۔ کہہ دو کیوں نہیں (آئے گی) میرے پروردگار کی قسم وہ تم پر ضرور آکر رہے گی (وہ پروردگار) غیب کا جاننے والا (ہے) ذرہ بھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں (نہ) آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور کوئی چیز ذرے سے چھوٹی یا بڑی ایسی نہیں مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔