اس لئے کہ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے ان کو بدلہ دے۔ یہی ہیں جن کے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لِيَجْزِيَ: تاکہ وہ بدلہ دے۔
الصَّالِحَاتِ: نیک اعمال، جو شرعی طور پر درست ہوں اور خلوص نیت سے کیے جائیں۔
مَغْفِرَةٌ: گناہوں کی بخشش اور پردہ پوشی۔
رِزْقٌ كَرِيمٌ: عزت والا رزق، یعنی جنت۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اپنے علمِ کامل اور اپنے نوشتہ (لوحِ محفوظ) کا ذکر فرمایا ہے، جس میں ہر چھوٹی بڑی چیز درج ہے، یہاں تک کہ ایک ذرہ برابر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کریں۔ یہ ایمان صرف زبانی نہیں، بلکہ دل کی تصدیق اور عمل کی موافقت کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ایسے لوگوں کے لیے دو عظیم انعامات ہیں: ایک مغفرت، جو گناہوں کی معافی اور ان کے اثرات سے پاکیزگی ہے، اور دوسرا کریم رزق، جو جنت ہے — ایک ایسی نعمت جو کبھی ختم نہیں ہوتی، جس میں ہر قسم کی خوشی اور سکون ہے۔
دعوتی انداز:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بہت بڑی خوشخبری سنائی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، تاکہ ہم اس کی رحمت اور جنت کے مستحق بنیں۔ مغفرت کا مطلب ہے کہ اللہ ہمارے گناہوں کو مٹا دے گا، اور رزقِ کریم کا مطلب ہے کہ وہ ہمیں ایسی نعمتیں دے گا جو ہماری سمجھ سے باہر ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم اپنی زندگی کو سنواریں اور اس کی رضا کے لیے عمل کریں۔ آئیے ہم اس وعدے پر یقین کریں اور اپنے اعمال کو نیک بنائیں، تاکہ ہم بھی ان خوش نصیب لوگوں میں شامل ہوں جن کے لیے یہ انعامات تیار کیے گئے ہیں۔
جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو اس میں سے نکلتا ہے اور جو آسمان سے اُترتا ہے اور جو اس پر چڑھتا ہے سب اس کو معلوم ہے۔ اور وہ مہربان (اور) بخشنے والا ہے
اور کافر کہتے ہیں کہ (قیامت کی) گھڑی ہم پر نہیں آئے گی۔ کہہ دو کیوں نہیں (آئے گی) میرے پروردگار کی قسم وہ تم پر ضرور آکر رہے گی (وہ پروردگار) غیب کا جاننے والا (ہے) ذرہ بھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں (نہ) آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور کوئی چیز ذرے سے چھوٹی یا بڑی ایسی نہیں مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے
اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ جانتے ہیں کہ جو (قرآن) تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ حق ہے۔ اور (خدائے) غالب اور سزاوار تعریف کا رستہ بتاتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔