یس · 69/83
ترجمہ تلفظ — یس
وَمَا عَلَّمۡنَٰهُ ٱلشِّعۡرَ وَمَا يَنۢبَغِي لَهُۥٓۚ إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرٌ وَقُرۡءَانٌ مُّبِينٌ  ۝٦٩
Wa maa `allamnaahush shi`ra wa maa yambaghee lah; in huwa illaa zikrunw-wa Qur-aanum mubeen
📖 اردو ترجمہ
اور ہم نے ان (پیغمبر) کو شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ وہ ان کو شایاں ہے۔ یہ تو محض نصیحت اور صاف صاف قرآن (پُرازحکمت) ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الشِّعْرَ: وہ کلام جو وزن اور قافیے کے ساتھ ہو اور جس میں خیالی اور مبالغہ آمیز مضامین پائے جاتے ہوں۔
  • مَا يَنبَغِي لَهُ: اس کے شایانِ شان نہیں، اس کے لیے مناسب نہیں۔
  • ذِكْرٌ: نصیحت، یاد دہانی۔
  • قُرْآنٌ مُّبِينٌ: واضح اور روشن کتاب جو حق و باطل میں فرق کرنے والی ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ عالیہ بیان فرما رہے ہیں کہ ہم نے اپنے نبی کو شعر نہیں سکھایا اور نہ ہی ان کے لیے یہ مناسب اور لائق ہے کہ وہ شاعر ہوں۔ یہ بات اس لیے فرمائی گئی تاکہ مشرکینِ مکہ کے اس الزام کی تردید ہو جو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے تھے کہ آپ شاعر ہیں اور یہ قرآن جادو یا شعر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ بات سراسر باطل ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت، اخلاق اور عاداتِ مبارکہ شعر سے پاک تھیں۔ آپ نہ تو شعر کہتے تھے اور نہ ہی آپ کے لیے یہ زیبا تھا کہ آپ شاعری کریں۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ چیز جو آپ کے پاس لائی گئی ہے (یعنی قرآن) وہ کوئی شعری کلام نہیں، بلکہ وہ ایک عظیم نصیحت اور واضح قرآن ہے۔ یہ قرآن ایسی روشن کتاب ہے جو حق اور باطل کے درمیان واضح فرق کرتی ہے، اس کے احکام صاف اور ظاہر ہیں، اس کی ہدایات اور مواعظ سب پر عیاں ہیں۔ یہ قرآن ان لوگوں کے لیے ذریعۂ ہدایت ہے جو دل و جان سے اسے قبول کرنا چاہیں، جو زندہ دل ہیں اور جن کی بصیرت روشن ہے۔

یہ قرآن صرف ایک یاد دہانی اور نصیحت ہے، تاکہ لوگ اپنے خالق کو پہچانیں، اپنے رب کی عبادت کریں اور گمراہی سے بچ کر سیدھے راستے پر چلیں۔ جو لوگ اسے قبول کریں گے وہ کامیاب ہوں گے، اور جو اس کے باوجود کفر پر قائم رہیں گے، ان پر اللہ کی حجت قائم ہو جائے گی اور وہ عذاب کے مستحق ہوں گے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ قرآن کریم ایک زندہ اور روشن معجزہ ہے جو قیامت تک قائم رہے گا۔ یہ کوئی انسانی کلام نہیں، بلکہ اللہ کا کلام ہے جو ہر دور کے انسانوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس قرآن کو پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں، کیونکہ یہی ہماری کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے۔ قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنے والا کبھی گمراہ نہیں ہو سکتا، اور جو اسے چھوڑ دے گا وہ دنیا اور آخرت دونوں میں خسارے میں رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 67-71 — یس

67وَلَوۡ نَشَآءُ لَمَسَخۡنَٰهُمۡ عَلَىٰ مَكَانَتِهِمۡ فَمَا ٱسۡتَطَٰعُواْ مُضِيًّا وَلَا يَرۡجِعُونَ 
اور اگر ہم چاہیں تو ان کی جگہ پر ان کی صورتیں بدل دیں پھر وہاں سے نہ آگے جاسکیں اور نہ (پیچھے) لوٹ سکیں
68وَمَن نُّعَمِّرۡهُ نُنَكِّسۡهُ فِي ٱلۡخَلۡقِۚ أَفَلَا يَعۡقِلُونَ 
اور جس کو ہم بڑی عمر دیتے ہیں تو اسے خلقت میں اوندھا کردیتے ہیں تو کیا یہ سمجھتے نہیں؟
69وَمَا عَلَّمۡنَٰهُ ٱلشِّعۡرَ وَمَا يَنۢبَغِي لَهُۥٓۚ إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرٌ وَقُرۡءَانٌ مُّبِينٌ 
اور ہم نے ان (پیغمبر) کو شعر گوئی نہیں سکھائی اور نہ وہ ان کو شایاں ہے۔ یہ تو محض نصیحت اور صاف صاف قرآن (پُرازحکمت) ہے
70لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيًّا وَيَحِقَّ ٱلۡقَوۡلُ عَلَى ٱلۡكَٰفِرِينَ 
تاکہ اس شخص کو جو زندہ ہو ہدایت کا رستہ دکھائے اور کافروں پر بات پوری ہوجائے
71أَوَلَمۡ يَرَوۡاْ أَنَّا خَلَقۡنَا لَهُم مِّمَّا عَمِلَتۡ أَيۡدِينَآ أَنۡعَٰمًا فَهُمۡ لَهَا مَٰلِكُونَ 
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جو چیزیں ہم نے اپنے ہاتھوں سے بنائیں ان میں سے ہم نے ان کے لئے چارپائے پیدا کر دیئے اور یہ ان کے مالک ہیں
یسقرآن فہرست
83آیت
مکیRevelation
69آیت

ترجمہ — یس 69

سورہ آیت 69/83 — یس يس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یس سنیں, یس ترجمہ, یس mp3, یس pdf. آیت 67–71. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں