ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- بَارَكْنَا: ہم نے برکت دی، خیر و خوبی میں اضافہ کیا۔
- ذُرِّيَّتِهِمَا: ان دونوں (ابراہیم علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام) کی اولاد۔
- مُحْسِنٌ: نیک عمل کرنے والا، اپنے رب کی اطاعت گزار۔
- ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ: اپنے نفس پر ظلم کرنے والا، یعنی گناہوں اور کفر سے اپنے آپ کو نقصان پہنچانے والا۔
- مُبِينٌ: واضح اور نمایاں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام پر خصوصی برکتیں نازل فرمائیں۔ ان برکتوں میں سب سے بڑی برکت یہ تھی کہ اللہ نے ان کی نسل کو بہت زیادہ بڑھایا اور ان کی اولاد میں سے بے شمار انبیاء اور نیک بندے پیدا کیے۔ یہ اللہ کا عظیم فضل تھا کہ ایک باپ کی نسل سے اتنی بڑی تعداد میں ہدایت کے پیشوا اور رہنما پیدا ہوئے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت بیان فرمائی کہ ان دونوں بزرگ ہستیوں کی ذریت میں دو قسم کے لوگ ہوں گے: ایک وہ جو محسن ہوں گے، یعنی اپنے رب کی اطاعت کرنے والے، نیکیاں کرنے والے اور اپنے نفس کو سنوارنے والے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور عمل صالح کیا۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں، یعنی کفر اور معصیت کا راستہ اختیار کرنے والے۔ یہ ظلم واضح اور نمایاں ہے کیونکہ وہ جانتے بوجھتے ہوئے اپنے آپ کو اللہ کی رحمت سے محروم کرتے ہیں اور اپنے لیے عذاب کا سامان کرتے ہیں۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ نیک نسب اور بزرگ والدین ہونا کسی کے لیے ضمانت نہیں کہ وہ نیک ہی رہے گا۔ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔ اسی طرح یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی برکت اور رحمت اپنے نیک بندوں پر ہوتی ہے، لیکن اولاد کو چاہیے کہ وہ اپنے والدین کے نقش قدم پر چلے اور ان کی نیکیوں کو اپنائے۔
دعوتی پہلو:
پیارے مسلمانو! یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ دیکھیے حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے عظیم نبی کی اولاد میں بھی ظالم اور گنہگار لوگ پیدا ہوئے، تو پھر ہم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ اپنے والدین کی نیکیوں پر فخر کرنے کے بجائے خود اپنے اعمال سنوارے۔ ہم میں سے ہر شخص کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ محسن بنے گا یا ظالم۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور اختیار دیا ہے، اور قرآن و سنت کی روشنی میں راستہ بھی دکھا دیا ہے۔ آئیے ہم سب اس آیت سے سبق لیں اور اپنے آپ کو محسنین کی صف میں شامل کریں، تاکہ اللہ کی رحمت اور برکتیں ہمارے شامل حال ہوں۔ یاد رکھیں، آج کی نیکی کل کی کامیابی ہے، اور آج کی غفلت کل کا پشیمانی کا سبب بن سکتی ہے۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 111-115 — صافات
ترجمہ — صافات 113
سورہ صافات آیت 113 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم نے ان پر اور اسحاق پر برکتیں نازل…سورہ آیت 113/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 111–115. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








