صافات · 30/182
ترجمہ تلفظ — صافات
وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ ۖ بَلْ كُنتُمْ قَوْمًا طَاغِينَ ۝٣٠
Wa maa kaana lanaa `alaikum min sultaanim bal kuntum qawman taagheen
📖 اردو ترجمہ
اور ہمارا تم پر کچھ زور نہ تھا۔ بلکہ تم سرکش لوگ تھے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • سُلْطَانٍ: کوئی طاقت، زور، یا حجت اور دلیل۔
  • طَاغِینَ: حد سے بڑھنے والے، سرکش، حق سے تجاوز کرنے والے۔

تفسیر:

اس آیت میں اہلِ جہنم کے سرداروں اور بڑوں کا اپنے پیروکاروں سے جواب بیان کیا جا رہا ہے۔ جب دوزخ میں اہلِ جہنم آپس میں جھگڑیں گے اور پیروکار اپنے سرداروں سے کہیں گے کہ تم نے ہمیں گمراہ کیا، تو سردار جواب دیں گے: "ہمارا تم پر کوئی زور یا غلبہ نہ تھا" یعنی ہم نہ تمہیں زبردستی کفر پر مجبور کر سکتے تھے، نہ ہمارے پاس کوئی ایسی طاقت تھی جو تمہیں حق سے روک دیتی۔ ہم نے تمہیں صرف دعوت دی تھی، لیکن تم نے خود اپنی خواہشات کی پیروی کی اور اپنی ضد اور سرکشی کی بنا پر حق کو قبول نہ کیا۔

"بلکہ تم خود ہی سرکش لوگ تھے" یعنی تمہاری اپنی فطرت میں طغیان اور حد سے تجاوز تھا۔ تم نے اپنے دل کی خواہشات کو اپنا معبود بنا لیا تھا، اور اپنی ضد اور تکبر کی وجہ سے ہدایت کو قبول کرنے سے انکار کیا۔ ہم نے تمہیں کبھی مجبور نہیں کیا، نہ ہم تمہارے اعمال کے ذمہ دار ہیں۔ تم خود اپنے گناہوں کے باعث اس عذاب کے مستحق ہوئے۔

یہ گفتگو اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ کوئی بھی شخص کسی کو ایمان لانے یا کفر کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو عقل اور اختیار دیا ہے، اور اس کے سامنے حق و باطل واضح کر دیا ہے۔ پس جو شخص حق کو قبول کرتا ہے وہ اپنے فائدے کے لیے کرتا ہے، اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے وہ اپنے نقصان کے لیے کرتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے گناہوں کا الزام دوسروں پر نہیں ڈالنا چاہیے۔ ہم میں سے ہر شخص اپنے اعمال کا خود جوابدہ ہے۔ شیطان اور برے ساتھی صرف وسوسہ ڈالتے ہیں، لیکن اصل فیصلہ ہمارا اپنا ہوتا ہے۔ اگر ہم اللہ کی طرف رجوع کریں، قرآن و سنت کو اپنائیں، اور اپنے نفس کی خواہشات پر قابو پائیں تو ہم کبھی گمراہ نہیں ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل دی ہے تاکہ ہم حق کو پہچانیں، اور اختیار دیا ہے تاکہ ہم اس پر عمل کریں۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو اللہ کے حکم کے مطابق ڈھالیں اور اپنے نفس کے طغیان سے بچیں، تاکہ ہم اس دن شرمندہ نہ ہوں جب ہر شخص اپنے اعمال کا حساب دے گا۔ اللہ ہمیں توفیق دے۔ آمین۔



📜 آیت 28-32 — صافات

28قَالُوا إِنَّكُمْ كُنتُمْ تَأْتُونَنَا عَنِ الْيَمِينِ
کہیں گے کیا تم ہی ہمارے پاس دائیں (اور بائیں) سے آتے تھے
29قَالُوا بَل لَّمْ تَكُونُوا مُؤْمِنِينَ
وہ کہیں گے بلکہ تم ہی ایمان لانے والے نہ تھے
30وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ ۖ بَلْ كُنتُمْ قَوْمًا طَاغِينَ
اور ہمارا تم پر کچھ زور نہ تھا۔ بلکہ تم سرکش لوگ تھے
31فَحَقَّ عَلَيْنَا قَوْلُ رَبِّنَا ۖ إِنَّا لَذَائِقُونَ
سو ہمارے بارے میں ہمارے پروردگار کی بات پوری ہوگئی اب ہم مزے چکھیں گے
32فَأَغْوَيْنَاكُمْ إِنَّا كُنَّا غَاوِينَ
ہم نے تم کو بھی گمراہ کیا (اور) ہم خود بھی گمراہ تھے
صافاتقرآن فہرست
182آیت
مکیRevelation
30آیت

ترجمہ — صافات 30

سورہ صافات آیت 30 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہمارا تم پر کچھ زور نہ تھا۔ بلکہ تم…

سورہ آیت 30/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 28–32. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں