Iz dakhaloo `alaa Daawooda fafazi`a minhum qaaloo la takhaf khasmaani baghaa ba`dunaa `alaa ba`din fahkum bainanaaa bilhaqqi wa laa tushtit wahdinaaa ilaa Sawaaa`is Siraat
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جس وقت وہ داؤد کے پاس آئے تو وہ ان سے گھبرا گئے انہوں نے کہا کہ خوف نہ کیجیئے۔ ہم دونوں کا ایک مقدمہ ہے کہ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے تو آپ ہم میں انصاف کا فیصلہ کر دیجیئے اور بےانصافی نہ کیجیئے گا اور ہم کو سیدھا رستہ دکھا دیجیئے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
بر داود داخل شدند. داود از آنها ترسيد. گفتند: مترس، ما دو مدعى هستيم كه يكى بر ديگرى ستم كرده است. ميان ما به حق داورى كن و پاى از عدالت بيرون منه و ما را به راه راست هدايت كن.
جس وقت وہ داؤد کے پاس آئے تو وہ ان سے گھبرا گئے انہوں نے کہا کہ خوف نہ کیجیئے۔ ہم دونوں کا ایک مقدمہ ہے کہ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے تو آپ ہم میں انصاف کا فیصلہ کر دیجیئے اور بےانصافی نہ کیجیئے گا اور ہم کو سیدھا رستہ دکھا دیجیئے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَفَزِعَ: ڈر گیا، گھبرا گیا۔
خَصْمَانِ: دو فریقِ مقدمہ، دو جھگڑا کرنے والے۔
بَغَى: زیادتی کی، ظلم کیا۔
لَا تُشْطِطْ: حد سے تجاوز نہ کرو، حق سے منحرف نہ ہو۔
سَوَاءِ الصِّرَاطِ: سیدھا راستہ، راہِ راست۔
تفسیر:
یہ وہ موقع تھا جب دو فریقِ مقدمہ حضرت داؤد علیہ السلام کی عبادت گاہ میں دیوار پھاند کر اچانک ان کے پاس پہنچ گئے۔ یہ اندازِ آمد غیر معمولی تھا، کیونکہ وہ دروازے سے نہیں آئے تھے بلکہ دیوار کے اوپر سے کود کر آئے، اس لیے حضرت داؤد علیہ السلام اس اچانک آمد پر گھبرا گئے اور خوفزدہ ہو گئے۔ یہ دیکھ کر انہوں نے فوراً کہا: "ڈرو نہیں، ہم دو جھگڑا کرنے والے ہیں، ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے، آپ ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کریں، ہم پر ظلم نہ کریں اور ہمیں سیدھے راستے کی طرف رہنمائی فرمائیں۔"
یہ واقعہ دراصل ایک آزمائش تھی جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت داؤد علیہ السلام کو دی، تاکہ ان کے صبر اور عدل کا امتحان ہو۔ اس میں سبق ہے کہ فیصلہ کرنے والے کو چاہیے کہ وہ حق پر قائم رہے، کسی کا طرفدار نہ ہو، اور لوگوں کو راہِ راست دکھائے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ انصاف اور حق پر قائم رہنا کتنا بڑا فضیلت کا کام ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام جیسے عظیم نبی بھی جب فیصلہ کرتے تھے تو ان سے کہا گیا کہ حق سے انحراف نہ کرو اور سیدھا راستہ دکھاؤ۔ آج ہمارے معاشرے میں بھی اگر ہم انصاف کو اپنا شعار بنا لیں، اپنے فیصلوں میں حق کو مقدم رکھیں، اور کسی بھی قسم کی زیادتی سے بچیں، تو ہمارے معاشرے میں امن و سکون پیدا ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عدل و انصاف پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
جس وقت وہ داؤد کے پاس آئے تو وہ ان سے گھبرا گئے انہوں نے کہا کہ خوف نہ کیجیئے۔ ہم دونوں کا ایک مقدمہ ہے کہ ہم میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے تو آپ ہم میں انصاف کا فیصلہ کر دیجیئے اور بےانصافی نہ کیجیئے گا اور ہم کو سیدھا رستہ دکھا دیجیئے
(کیفیت یہ ہے کہ) یہ میرا بھائی ہے اس کے (ہاں) ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے (پاس) ایک دُنبی ہے۔ یہ کہتا ہے کہ یہ بھی میرے حوالے کردے اور گفتگو میں مجھ پر زبردستی کرتا ہے
انہوں نے کہا کہ یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملالے بےشک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔ اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔ ہاں جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ اور داؤد نے خیال کیا کہ (اس واقعے سے) ہم نے ان کو آزمایا ہے تو انہوں نے اپنے پروردگار سے مغفرت مانگی اور جھک کر گڑ پڑے اور (خدا کی طرف) رجوع کیا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔