زمر · 47/75
ترجمہ تلفظ — زمر
وَلَوْ أَنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لَافْتَدَوْا بِهِ مِن سُوءِ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ وَبَدَا لَهُم مِّنَ اللَّهِ مَا لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ ۝٤٧
Wa law anna lillazeena zalamoo maa fil ardi jamee`anw wa mislahoo ma`ahoo laftadaw bihee min sooo`il azaabi Yawmal Qiyaamah; wa badaa lahum minal laahi maa lam yakkoonoo yahtasiboon
📖 اردو ترجمہ
اور اگر ظالموں کے پاس وہ سب (مال ومتاع) ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اسی قدر اور ہو تو قیامت کے روز برے عذاب (سے مخلصی پانے) کے بدلے میں دے دیں۔ اور ان پر خدا کی طرف سے وہ امر ظاہر ہوجائے گا جس کا ان کو خیال بھی نہ تھا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • ظلموا: جنہوں نے شرک اور گناہوں کے ذریعے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔
  • افتدوا: فدیہ دینا، یعنی کسی چیز کے بدلے کسی چیز کو چھڑانا۔
  • سوء العذاب: سخت اور برا عذاب۔
  • یحتسبون: توقع رکھنا، اندازہ لگانا، گمان کرنا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں قیامت کے دن ظالموں اور مشرکوں کی انتہائی افسوسناک حالت کا نقشہ کھینچ رہے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر ان ظالموں کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے، اور اس کے ساتھ اتنا ہی مزید بھی ہو — یعنی ساری دنیا کی دولت اور اس سے بھی دگنا خزانہ — تو وہ اسے قیامت کے دن اپنے آپ کو سخت عذاب سے بچانے کے لیے فدیے کے طور پر دے ڈالیں۔ لیکن افسوس! یہ فدیہ ان سے قبول نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی یہ انہیں اللہ کے عذاب سے بچا سکے گا۔

یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ قیامت کے دن نجات کا کوئی ذریعہ نہیں ہوگا سوائے ایمان اور نیک اعمال کے۔ دنیا میں جو لوگ دولت، طاقت اور وسائل پر بھروسہ کرتے ہیں، وہ اس دن اپنی ساری دولت کو حقیر سمجھ کر اسے عذاب سے بچنے کے لیے پیش کرنا چاہیں گے، لیکن اللہ کی عدالت میں یہ سب بیکار ہوگا۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور ان پر اللہ کی طرف سے وہ ظاہر ہوگا جس کا انہیں گمان بھی نہ تھا۔" یعنی قیامت کے دن ان کے سامنے اللہ کے عذاب کی وہ صورتیں اور وہ سختیاں آئیں گی جن کا انہوں نے دنیا میں کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر کوئی حساب ہوگا تو شاید آسان ہوگا، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوگی۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہر مسلمان کے لیے ایک بیداری اور نصیحت ہے کہ ہم دنیا کی دولت اور ظاہری وسائل پر کبھی بھروسہ نہ کریں۔ اصل کامیابی اللہ کی رضا اور اس کے احکام پر عمل کرنے میں ہے۔ آج ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے — مال، اولاد، صحت، طاقت — یہ سب اللہ کی امانت ہے اور ایک دن ہم سے اس کا حساب لیا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے ہمیں خبردار کیا ہے کہ قیامت کا دن اتنا سخت ہوگا کہ انسان اپنی ساری دنیا بھی دے کر اس عذاب سے بچنا چاہے گا، لیکن وہاں کوئی چیز کام نہیں آئے گی۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ آج ہی اپنے اعمال سنواریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور اللہ کی رحمت اور مغفرت کے طلبگار بنیں۔ اللہ تعالیٰ بہت مہربان ہے، وہ توبہ کرنے والوں کو قبول کرتا ہے اور اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔ آئیے ہم اس دنیا کو آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنائیں، نہ کہ اپنے لیے وبالِ جان۔

🎧 سنیں

📜 آیت 45-49 — زمر

45وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ ۖ وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ
اور جب تنہا خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل منقبض ہوجاتے ہیں۔ اور جب اس کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو خوش ہوجاتے ہیں
46قُلِ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِي مَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
کہو کہ اے خدا (اے) آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے (اور) پوشیدہ اور ظاہر کے جاننے والے تو ہی اپنے بندوں میں ان باتوں کا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں فیصلہ کرے گا
47وَلَوْ أَنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لَافْتَدَوْا بِهِ مِن سُوءِ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ وَبَدَا لَهُم مِّنَ اللَّهِ مَا لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ
اور اگر ظالموں کے پاس وہ سب (مال ومتاع) ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اسی قدر اور ہو تو قیامت کے روز برے عذاب (سے مخلصی پانے) کے بدلے میں دے دیں۔ اور ان پر خدا کی طرف سے وہ امر ظاہر ہوجائے گا جس کا ان کو خیال بھی نہ تھا
48وَبَدَا لَهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَسَبُوا وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
اور ان کے اعمال کی برائیاں ان پر ظاہر ہوجائیں گی اور جس (عذاب) کی وہ ہنسی اُڑاتے تھے وہ ان کو آگھیرے گا
49فَإِذَا مَسَّ الْإِنسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا ثُمَّ إِذَا خَوَّلْنَاهُ نِعْمَةً مِّنَّا قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ ۚ بَلْ هِيَ فِتْنَةٌ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں پکارنے لگتا ہے۔ پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے نعمت بخشتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے (میرے) علم (ودانش) کے سبب ملی ہے۔ (نہیں) بلکہ وہ آزمائش ہے مگر ان میں سے اکثر نہیں جانتے
زمرقرآن فہرست
75آیت
مکیRevelation
47آیت

ترجمہ — زمر 47

سورہ زمر آیت 47 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اگر ظالموں کے پاس وہ سب (مال ومتاع) ہو…

سورہ آیت 47/75 — زمر الزمر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: زمر سنیں, زمر ترجمہ, زمر mp3, زمر pdf. آیت 45–49. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں