Fakaifa izaaa asaabathum museebatum summa jaaa`ooka yahlifoona billaahi in aradnaaa illaaa ihsaananw wa tawfeeqaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
تو کیسی (ندامت کی) بات ہے کہ جب ان کے اعمال (کی شامت سے) ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو تمہارے پاس بھاگے آتے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں کہ والله ہمارا مقصود تو بھلائی اور موافقت تھا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
پس چگونه است كه چون به پاداش كارهايى كه مرتكب شدهاند مصيبتى به آنها رسد، نزد تو مىآيند و به خدا سوگند مىخورند كه ما جز احسان و موافقت قصد ديگرى نداشتهايم؟
تو کیسی (ندامت کی) بات ہے کہ جب ان کے اعمال (کی شامت سے) ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو تمہارے پاس بھاگے آتے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں کہ والله ہمارا مقصود تو بھلائی اور موافقت تھا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مصیبة: کوئی تکلیف، نقصان یا سزا جو کسی عمل کے نتیجے میں آئے۔
قدّمت أیدیہم: جو کچھ انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے آگے بھیجا، یعنی اپنے کیے ہوئے اعمال۔
یحلفون: قسمیں کھاتے ہیں۔
إحسانًا: بھلائی، اچھا مقصد، یا کسی کے ساتھ اچھا سلوک۔
توفیقًا: باہمی میل ملاپ، صلح، یا کسی معاملے کو درست کرنے کی کوشش۔
تفسیر:
اے نبی کریم ﷺ! آپ ان منافقوں کے اس حال پر غور کیجیے جو آپ کے فیصلے کو قبول نہیں کرتے اور دوسروں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ جب ان کے اس غلط رویے کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے — جیسے کسی کی موت، نقصان، یا رسوائی — تو اس وقت ان کا کیا حال ہوگا؟ یہ مصیبت ان کے اپنے برے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے، جو انہوں نے اپنے ہاتھوں کمایا، یعنی آپ کے فیصلے کو ٹھکرانا اور غیر شرعی طریقوں سے فیصلہ کروانا۔
پھر جب یہ مصیبت آتی ہے تو یہ شرمندہ ہو کر آپ کے پاس آتے ہیں، اور اللہ کی قسمیں کھا کر جھوٹے عذر پیش کرتے ہیں کہ "ہمارا مقصد صرف بھلائی تھا، ہم چاہتے تھے کہ دونوں فریقوں میں صلح کروا دیں، اور ہم نے آپ کی مخالفت کا ارادہ نہیں کیا تھا۔" لیکن یہ سراسر جھوٹ ہے، کیونکہ اگر ان کا مقصد واقعی بھلائی اور صلح ہوتا تو وہ اللہ کے رسول ﷺ کے فیصلے پر راضی ہوتے، جو خود رحمت اور عدل کا سرچشمہ ہے۔
اصل بھلائی اور توفیق یہ ہے کہ انسان اللہ کے حکم اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلے کو دل و جان سے قبول کرے، نہ کہ اپنی عقل اور خواہشات کے پیچھے چلے۔ یہ منافق اپنے جھوٹے حلفوں سے اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں، حالانکہ اللہ ان کے دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک عظیم سبق ملتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلے پر راضی ہونا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ جو شخص اپنے معاملات میں شرعی احکام کو ترجیح دیتا ہے، اللہ اسے دنیا اور آخرت میں عزت دیتا ہے۔ اور جو شخص ان احکام سے منہ موڑتا ہے، اسے اپنے کیے کا انجام بھگتنا پڑتا ہے۔ یاد رکھیے، مصیبتوں میں بھی اللہ کی رحمت ہے، کیونکہ یہ انسان کو اس کی غلطیوں کی طرف متوجہ کرتی ہیں اور توبہ کا موقع دیتی ہیں۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر معاملے میں قرآن و سنت کو فیصلہ بنائیں، اور اپنے دلوں کو نفاق اور دھوکے سے پاک رکھیں، کیونکہ اللہ ہر چھپی ہوئی بات کو جانتا ہے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ جو (کتاب) تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں ان سب پر ایمان رکھتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ ایک سرکش کے پاس لے جا کر فیصلہ کرائیں حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس سے اعتقاد نہ رکھیں اور شیطان (تو یہ) چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر رستے سے دور ڈال دے
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کی طرف (رجوع کرو) اور پیغمبر کی طرف آؤ تو تم منافقوں کو دیکھتے ہو کہ تم سے اعراض کرتے اور رکے جاتے ہیں
تو کیسی (ندامت کی) بات ہے کہ جب ان کے اعمال (کی شامت سے) ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو تمہارے پاس بھاگے آتے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں کہ والله ہمارا مقصود تو بھلائی اور موافقت تھا
ان لوگوں کے دلوں میں جو کچھ ہے خدا اس کو خوب جانتا ہے تم ان (کی باتوں) کو کچھ خیال نہ کرو اور انہیں نصیحت کرو اور ان سے ایسی باتیں کہو جو ان کے دلوں میں اثر کر جائیں
اور ہم نے جو پیغمبر بھیجا ہے اس لئے بھیجا ہے کہ خدا کے فرمان کے مطابق اس کا حکم مانا جائے اور یہ لوگ جب اپنے حق میں ظلم کر بیٹھے تھے اگر تمہارے پاس آتے اور خدا سے بخشش مانگتے اور رسول (خدا) بھی ان کے لئے بخشش طلب کرتے تو خدا کو معاف کرنے والا (اور) مہربان پاتے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔