Mishary Rashid Alafasy
✓
Mahmoud Khalil Al-Husary
✓
Abdurrahman As-Sudais
✓
Mohamed Siddiq Al-Minshawi
✓
Abdul Basit Abdul Samad
✓
Ali Al-Hudhaify
✓
Ahmed ibn Ali al-Ajamy
✓
Abu Bakr Ash-Shaatree
✓
Muhammad Ayyoub
✓
Abdullah Basfar
✓
Abdullah Al-Juhani
✓
Maher Al Muaiqly
✓
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مصیبة: کوئی تکلیف، نقصان یا سزا جو کسی عمل کے نتیجے میں آئے۔
- قدّمت أیدیہم: جو کچھ انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے آگے بھیجا، یعنی اپنے کیے ہوئے اعمال۔
- یحلفون: قسمیں کھاتے ہیں۔
- إحسانًا: بھلائی، اچھا مقصد، یا کسی کے ساتھ اچھا سلوک۔
- توفیقًا: باہمی میل ملاپ، صلح، یا کسی معاملے کو درست کرنے کی کوشش۔
تفسیر:
اے نبی کریم ﷺ! آپ ان منافقوں کے اس حال پر غور کیجیے جو آپ کے فیصلے کو قبول نہیں کرتے اور دوسروں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ جب ان کے اس غلط رویے کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے — جیسے کسی کی موت، نقصان، یا رسوائی — تو اس وقت ان کا کیا حال ہوگا؟ یہ مصیبت ان کے اپنے برے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے، جو انہوں نے اپنے ہاتھوں کمایا، یعنی آپ کے فیصلے کو ٹھکرانا اور غیر شرعی طریقوں سے فیصلہ کروانا۔
پھر جب یہ مصیبت آتی ہے تو یہ شرمندہ ہو کر آپ کے پاس آتے ہیں، اور اللہ کی قسمیں کھا کر جھوٹے عذر پیش کرتے ہیں کہ "ہمارا مقصد صرف بھلائی تھا، ہم چاہتے تھے کہ دونوں فریقوں میں صلح کروا دیں، اور ہم نے آپ کی مخالفت کا ارادہ نہیں کیا تھا۔" لیکن یہ سراسر جھوٹ ہے، کیونکہ اگر ان کا مقصد واقعی بھلائی اور صلح ہوتا تو وہ اللہ کے رسول ﷺ کے فیصلے پر راضی ہوتے، جو خود رحمت اور عدل کا سرچشمہ ہے۔
اصل بھلائی اور توفیق یہ ہے کہ انسان اللہ کے حکم اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلے کو دل و جان سے قبول کرے، نہ کہ اپنی عقل اور خواہشات کے پیچھے چلے۔ یہ منافق اپنے جھوٹے حلفوں سے اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں، حالانکہ اللہ ان کے دلوں کے بھید خوب جانتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک عظیم سبق ملتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فیصلے پر راضی ہونا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ جو شخص اپنے معاملات میں شرعی احکام کو ترجیح دیتا ہے، اللہ اسے دنیا اور آخرت میں عزت دیتا ہے۔ اور جو شخص ان احکام سے منہ موڑتا ہے، اسے اپنے کیے کا انجام بھگتنا پڑتا ہے۔ یاد رکھیے، مصیبتوں میں بھی اللہ کی رحمت ہے، کیونکہ یہ انسان کو اس کی غلطیوں کی طرف متوجہ کرتی ہیں اور توبہ کا موقع دیتی ہیں۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر معاملے میں قرآن و سنت کو فیصلہ بنائیں، اور اپنے دلوں کو نفاق اور دھوکے سے پاک رکھیں، کیونکہ اللہ ہر چھپی ہوئی بات کو جانتا ہے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔
📜 آیت 60-64 — سورہ نساء
ترجمہ — نساء 62
سورہ نساء آیت 62 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو کیسی (ندامت کی) بات ہے کہ جب ان کے…سورہ آیت 62/176 — سورہ نساء النساء (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ نساء سنیں, سورہ نساء ترجمہ, سورہ نساء mp3, سورہ نساء pdf. آیت 60–64. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Monday, September 28, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں


