Wa izaa jaaa`ahum amrum minal amni awil kkhawfi azaa`oo bihee wa law raddoohu ilar Rasooli wa ilaaa ulil amri minhum la`alimahul lazeena yastambitoonahoo minhum; wa law laa fadlul laahi `alaikum wa rahmatuhoo lattaba`tumush Shaitaana illaa qaleelaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچاتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کر لیتے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہوجاتے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و چون خبرى، چه ايمنى و چه ترس به آنها رسد، آن را در همه جا فاش مىكنند. و حال آنكه اگر در آن به پيامبر و اولوالامرشان رجوع مىكردند، حقيقت امر را از آنان درمىيافتند. و اگر فضل و رحمت خدا نبود، جز اندكى، همگان از شيطان پيروى مىكرديد.
أُولِي الْأَمْرِ: اہلِ علم و رائے، ذمہ دارانِ امور۔
يَسْتَنبِطُونَهُ: جو اس کے حقیقی مفہوم اور مصلحت کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تفسیرِ آیہ:
جب منافقین یا کمزور ایمان والوں کے پاس کوئی ایسی خبر پہنچتی ہے جو امن و خوشی سے متعلق ہو (جیسے فتح یا غنیمت کی بشارت) یا خوف و خطر سے متعلق ہو (جیسے جنگ یا شکست کا اندیشہ)، تو وہ اسے فوراً پھیلا دیتے ہیں اور لوگوں میں مشہور کر دیتے ہیں، بغیر اس کے انجام اور مصلحت کو سمجھے۔ حالانکہ اگر وہ اس خبر کو رسول اللہ ﷺ اور اہلِ علم و رائے تک پہنچاتے، تو وہ لوگ جو استنباط اور گہری سمجھ رکھتے ہیں، اس کے صحیح مفہوم کو جان لیتے اور یہ فیصلہ کر لیتے کہ اسے پھیلانا چاہیے یا چھپانا چاہیے۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندوں پر فضل و رحمت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے: اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی (یعنی اسلام اور قرآن کی نعمت نہ ہوتی)، تو تم میں سے بہت کم لوگ ہی شیطان کے پیچھے چلنے سے بچ پاتے۔ یعنی تم بھی اسی طرح افواہیں پھیلاتے اور شیطان کے راستے پر چل پڑتے، جیسے منافقین کرتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہر خبر کو فوراً پھیلانے کے بجائے اسے اہلِ علم اور ذمہ داران تک پہنچانا چاہیے۔ آج کے دور میں افواہوں اور جھوٹی خبروں کا پھیلنا مسلمانوں کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم کسی بھی خبر کی تصدیق کریں اور اسے سمجھدار لوگوں تک پہنچائیں، تاکہ معاشرے میں امن و سکون برقرار رہے۔ اللہ کا فضل ہے کہ اس نے ہمیں قرآن اور سنت جیسی نعمت عطا کی، جس کی روشنی میں ہم صحیح اور غلط میں فرق کر سکتے ہیں۔ آئیے ہم اس نعمت کا شکر ادا کریں اور افواہوں سے بچ کر اپنے معاشرے کو محفوظ بنائیں۔
اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچاتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کر لیتے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہوجاتے
اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ (آپ کی) فرمانبرداری (دل سے منظور ہے) لیکن جب تمہارے پاس سے چلے جاتے ہیں تو ان میں سے بعض لوگ رات کو تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتے ہیں اور جو مشورے یہ کرتے ہیں خدا ان کو لکھ لیتا ہے تو ان کا کچھ خیال نہ کرو اور خدا پر بھروسہ رکھو اور خدا ہی کافی کارساز ہے
اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچاتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کر لیتے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہوجاتے
تو (اے محمدﷺ) تم خدا کی راہ میں لڑو تم اپنے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں اور مومنوں کو بھی ترغیب دو قریب ہے کہ خدا کافروں کی لڑائی کو بند کردے اور خدا لڑائی کے اعتبار سے بہت سخت ہے اور سزا کے لحاظ سے بھی بہت سخت ہے
جو شخص نیک بات کی سفارش کرے تو اس کو اس (کے ثواب) میں سے حصہ ملے گا اور جو بری بات کی سفارش کرے اس کو اس (کے عذاب) میں سے حصہ ملے گا اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔