بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے؟ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت سا) اختلاف پاتے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یَتَدَبَّرُونَ: غور سے غور و فکر کرنا، سوچ بچار کرنا، تدبر کرنا۔
اخْتِلَافًا: تضاد، تناقض، باہمی اختلاف اور بے ربطی۔
تفسیر آیت:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اہل ایمان اور اہل کتاب دونوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ قرآن مجید پر غور و فکر کریں۔ کیا وہ اس عظیم کتاب پر تدبر نہیں کرتے؟ کیا وہ اس کے معانی اور مطالب پر غور نہیں کرتے؟ اگر وہ سچے دل سے اس پر غور کریں تو ان پر یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ یہ کتاب کسی انسان کی تصنیف نہیں، بلکہ اللہ رب العالمین کا کلام ہے۔
قرآن مجید کا انداز بیان، اس کی فصاحت و بلاغت، اس کے احکام کی جامعیت، اس کے وعدوں اور وعیدوں میں ہم آہنگی، اور اس کے قصص و واقعات کی حقیقت پسندی — یہ سب ایسے دلائل ہیں جو اس بات پر شاہد ہیں کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے۔ اگر یہ کتاب کسی غیر اللہ کی طرف سے ہوتی، یعنی کسی انسان یا کسی مخلوق کی تصنیف ہوتی، تو اس میں بہت زیادہ اختلاف، تضاد اور بے ربطی پائی جاتی۔ انسانوں کی تحریروں میں وقت کے ساتھ تبدیلیاں آتی ہیں، ان کے خیالات بدلتے ہیں، ان کے بیانات میں باہمی تناقض پیدا ہو جاتا ہے۔ لیکن قرآن مجید چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود اپنی ہم آہنگی، اپنے اسلوب کی یکسانیت اور اپنے پیغام کی پختگی میں آج بھی ایک معجزہ ہے۔
یہ آیت ہمیں دعوت دیتی ہے کہ ہم قرآن کو سمجھ کر پڑھیں، اس پر غور کریں، اور اس کی تعلیمات پر عمل کریں۔ قرآن ہی وہ واحد کتاب ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں، کوئی تضاد نہیں، اور کوئی تبدیلی نہیں۔ یہی اس کے اللہ کی کتاب ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا سوچیں، آج دنیا میں ہزاروں کتابیں موجود ہیں، لیکن کیا کوئی کتاب ایسی ہے جس میں کوئی اختلاف نہ ہو؟ کیا کوئی انسانی تصنیف ایسی ہے جو صدیوں تک اپنی اصلی حالت میں محفوظ رہی ہو؟ ہرگز نہیں! صرف قرآن مجید ہے جو اپنی ہر آیت، ہر لفظ اور ہر حرف کے ساتھ آج بھی ویسا ہی ہے جیسا نازل ہوا تھا۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے ہمیں ایسی کتاب عطا کی جو ہدایت کا مکمل ضابطہ ہے۔ آئیے ہم اس پر تدبر کریں، اسے سمجھیں، اور اس پر عمل کر کے اپنی دنیا اور آخرت دونوں سنواریں۔ قرآن کو چھوڑ کر کوئی اور راہ نجات نہیں، اور قرآن کو اپنا کر کوئی گمراہ نہیں ہو سکتا۔
اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ (آپ کی) فرمانبرداری (دل سے منظور ہے) لیکن جب تمہارے پاس سے چلے جاتے ہیں تو ان میں سے بعض لوگ رات کو تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتے ہیں اور جو مشورے یہ کرتے ہیں خدا ان کو لکھ لیتا ہے تو ان کا کچھ خیال نہ کرو اور خدا پر بھروسہ رکھو اور خدا ہی کافی کارساز ہے
اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچاتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کر لیتے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہوجاتے
تو (اے محمدﷺ) تم خدا کی راہ میں لڑو تم اپنے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں اور مومنوں کو بھی ترغیب دو قریب ہے کہ خدا کافروں کی لڑائی کو بند کردے اور خدا لڑائی کے اعتبار سے بہت سخت ہے اور سزا کے لحاظ سے بھی بہت سخت ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔