Wa laqad jaaa`akum Yoosufu min qablu bil baiyinaati famaa ziltum fee shakkim mimaa jaaa`akum bihee hattaaa izaa halaka qultum lai yab asal laahu mim ba`dihee Rasoolaa; kazaalika yudillul laahu man huwa Musrifum murtaab
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور پہلے یوسف بھی تمہارے پاس نشانیاں لے کر آئے تھے تو جو وہ لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک ہی میں رہے۔ یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوگئے تو تم کہنے لگے کہ خدا اس کے بعد کبھی کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح خدا اس شخص کو گمراہ کر دیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
يوسف پيش از اين با دلايل روشن بر شما بر شما مبعوث شد و شما از آنچه آورده بود همچنان در شك مىبوديد. چون يوسف بمرد گفتيد: خدا پس از او ديگر پيامبرى نخواهد فرستاد. خدا گزافكار شكآورنده را اين گونه گمراه مىسازد؛
اور پہلے یوسف بھی تمہارے پاس نشانیاں لے کر آئے تھے تو جو وہ لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک ہی میں رہے۔ یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوگئے تو تم کہنے لگے کہ خدا اس کے بعد کبھی کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح خدا اس شخص کو گمراہ کر دیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بِالْبَیِّنَاتِ: واضح دلائل اور معجزات
هَلَکَ: وفات پائی، انتقال فرمایا
مُسْرِفٌ: حد سے تجاوز کرنے والا، حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف جانے والا
مُرْتَابٌ: شک کرنے والا، شبہ میں مبتلا رہنے والا
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اہلِ مصر کے اس رویے کا ذکر فرما رہے ہیں جو انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ رکھا تھا، اور یہی انداز انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بھی اپنایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تمہارے پاس حضرت یوسف علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام سے پہلے واضح دلائل اور روشن معجزات لے کر آئے تھے۔ انہوں نے تمہیں توحید اور اللہ کی عبادت کی دعوت دی، لیکن تم ہمیشہ ان کے لائے ہوئے دین اور پیغام کے بارے میں شک و شبہ میں مبتلا رہے۔ یہاں تک کہ جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہہ دیا کہ اللہ ان کے بعد کوئی رسول نہیں بھیجے گا۔ یعنی تم نے یہ سمجھ لیا کہ رسالت کا سلسلہ ختم ہو گیا، اور تم اپنے کفر و شرک پر قائم رہے۔
یہ طرزِ عمل صرف اہلِ مصر کا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک عام انسانی کمزوری ہے کہ جب اللہ کے نبی آتے ہیں تو لوگ ان کی بات کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اور جب وہ چلے جاتے ہیں تو پھر بھی عبرت حاصل نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اسی طرح اللہ ان لوگوں کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے جو حد سے تجاوز کرنے والے ہیں اور حق کے بارے میں شک میں مبتلا رہتے ہیں۔ یعنی جو لوگ اپنی سرکشی اور ضد کی وجہ سے حق کو قبول نہیں کرتے، اور ہمیشہ شک و شبہ میں الجھے رہتے ہیں، اللہ انہیں ہدایت کی توفیق نہیں دیتا۔
اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے کہ ہمیں اللہ کے رسولوں اور ان کے لائے ہوئے پیغام پر مکمل یقین رکھنا چاہیے۔ شک و شبہ اور ضد و ہٹ دھرمی انسان کو گمراہی کی راہ پر ڈال دیتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر دور میں آنے والے انبیاء اور ان کی تعلیمات سے سبق حاصل کریں، اور اپنے ایمان کو شکوک و شبہات سے محفوظ رکھیں۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ ہدایت انہیں عطا فرماتا ہے جو سچے دل سے حق کو قبول کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں، اور جو ضد اور تکبر کے ساتھ حق کو رد کرتے ہیں، وہ گمراہی میں ہی رہ جاتے ہیں۔
جس دن تم پیٹھ پھیر کر (قیامت کے دن سے) بھاگو گے (اس دن) تم کو کوئی (عذاب) خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔ اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں
اور پہلے یوسف بھی تمہارے پاس نشانیاں لے کر آئے تھے تو جو وہ لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک ہی میں رہے۔ یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوگئے تو تم کہنے لگے کہ خدا اس کے بعد کبھی کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح خدا اس شخص کو گمراہ کر دیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو
جو لوگ بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی دلیل آئی ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں۔ خدا کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک یہ جھگڑا سخت ناپسند ہے۔ اسی طرح خدا ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔