ترجمہ — Tafsir
الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَانٍ أَتَاهُمْ ۖ كَبُرَ مَقْتًا عِندَ اللَّهِ وَعِندَ الَّذِينَ آمَنُوا ۚ كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ
معانی الفاظ:
- يُجَادِلُونَ: جھگڑتے ہیں، حجت بازی کرتے ہیں۔
- سُلْطَانٍ: دلیل، برہان، کوئی روشن حجت۔
- كَبُرَ مَقْتًا: بہت بڑی نفرت اور غضب ہے۔
- يَطْبَعُ: مہر لگا دیتا ہے، بند کر دیتا ہے۔
- جَبَّارٍ: سرکش، ظالم، جو لوگوں پر زبردستی کرنے والا ہو۔
تفسیر:
یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے دلائل کے بارے میں جھگڑتے ہیں، نہ اس لیے کہ وہ حق کو تلاش کرنا چاہتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ حق کو باطل کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو راہِ راست سے بھٹکانا چاہتے ہیں۔ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی، نہ کوئی برہان، نہ کوئی روشن حجت جو انہیں اللہ کی طرف سے ملی ہو۔ وہ محض اپنی خواہشات اور ہٹ دھرمی کی بنا پر جھگڑتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسا جھگڑا اللہ کے نزدیک بہت بڑی نفرت کا باعث ہے، اور مومنوں کے نزدیک بھی یہ سخت ناپسندیدہ ہے۔ کیونکہ یہ لوگ اللہ کی نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں، ان کی توہین کرتے ہیں، اور لوگوں کو ایمان سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے، اسی طرح اللہ ہر اس شخص کے دل پر مہر لگا دیتا ہے جو تکبر کرنے والا اور سرکش ہو۔ تکبر سے مراد یہ ہے کہ وہ حق کو قبول کرنے سے انکار کرے، چاہے حق واضح ہو۔ اور جبار سے مراد وہ شخص ہے جو لوگوں پر ظلم کرے، انہیں دباتا ہو، اور اپنی ضد پر اڑا رہے۔ ایسے لوگوں کے دلوں پر اللہ مہر لگا دیتا ہے، یعنی ان کی سمجھ بوجھ ختم کر دیتا ہے، وہ حق کو دیکھ کر بھی نہیں دیکھتے، سن کر بھی نہیں سنتے، اور ہدایت ان تک پہنچتی ہی نہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک اہم سبق سکھاتی ہے کہ ہمیں کبھی بھی حق کے خلاف جھگڑا نہیں کرنا چاہیے، اور نہ ہی بغیر علم کے کسی چیز کو رد کرنا چاہیے۔ اگر ہمارے پاس کوئی سوال یا شبہ ہو تو ہمیں علماء سے پوچھنا چاہیے، لیکن ہٹ دھرمی اور تکبر کے ساتھ حق کو جھٹلانا اللہ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے۔
یاد رکھیں! اللہ تعالیٰ نے قرآن کو ہدایت کے لیے اتارا ہے، نہ کہ جھگڑنے کے لیے۔ جب ہم قرآن پڑھتے ہیں تو ہمیں اس پر عمل کرنے کی نیت کرنی چاہیے، نہ کہ اس میں عیب نکالنے کی۔ جو لوگ عاجزی اور انکساری کے ساتھ حق کو قبول کرتے ہیں، اللہ ان کے دلوں کو نور سے بھر دیتا ہے، اور جو لوگ تکبر کرتے ہیں، ان کے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے۔
آئیے ہم اپنے دلوں کو تکبر اور ہٹ دھرمی سے پاک کریں، اور اللہ کے سامنے جھک جائیں، کیونکہ جو شخص اللہ کے سامنے جھک جاتا ہے، اللہ اسے عزت دیتا ہے، اور جو شخص تکبر کرتا ہے، اللہ اسے ذلیل کر دیتا ہے۔ اللہ ہمیں حق قبول کرنے کی توفیق دے اور ہمارے دلوں کو ہدایت کے لیے کھول دے۔ آمین۔
📜 آیت 33-37 — غافر
ترجمہ — غافر 35
سورہ غافر آیت 35 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو لوگ بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی…سورہ آیت 35/85 — غافر غافر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: غافر سنیں, غافر ترجمہ, غافر mp3, غافر pdf. آیت 33–37. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








