اور فرعون نے کہا کہ ہامان میرے لئے ایک محل بناؤ تاکہ میں (اس پر چڑھ کر) رستوں پر پہنچ جاؤں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
صرحًا: اونچی عمارت، بلند و بالا محل یا محلِ نمایان۔
اسباب: وہ ذرائع اور راستے جن کے ذریعے کوئی چیز حاصل کی جائے، یہاں مراد آسمانوں کے دروازے اور ان تک پہنچنے کے وسائل ہیں۔
تفسیر:
فرعون نے اپنے وزیر ہامان سے کہا: "اے ہامان! میرے لیے ایک بلند و بالا عمارت تعمیر کرو، تاکہ میں ان راستوں تک پہنچ سکوں۔" فرعون کا یہ مطالبہ دراصل موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو جھٹلانے اور ان کے رب کے بارے میں ان کے بیان کو غلط ثابت کرنے کی کوشش تھی۔ وہ کہنا چاہتا تھا کہ میں خود آسمانوں تک پہنچ کر دیکھوں گا کہ موسیٰ جس رب کا ذکر کرتا ہے وہ کہاں ہے؟ وہ یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ موسیٰ جھوٹا ہے اور اس کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔
فرعون کا یہ عمل انتہائی حماقت اور کبر و غرور پر مبنی تھا۔ اس نے اپنے برے کام کو اچھا سمجھا اور حق کی راہ سے بھٹک گیا۔ اس کا یہ سارا حیلہ اور تدبیر، جس سے وہ لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ وہ حق پر ہے اور موسیٰ باطل پر، بالآخر اس کے لیے نقصان اور تباہی کا سبب بنی۔ اس کی یہ کوشش نہ صرف ناکام ہوئی بلکہ اسے دنیا اور آخرت دونوں میں رسوائی اور عذاب کا سامنا کرنا پڑا۔
دعوتی پہلو:
یہ واقعہ ہمارے لیے ایک عبرت ہے کہ انسان جب تکبر اور ضد میں مبتلا ہو جاتا ہے تو وہ حق کو دیکھ کر بھی نہیں مانتا اور اپنے باطل خیالات کو سچ ثابت کرنے کے لیے بے وقوفانہ حرکتیں کرتا ہے۔ فرعون جیسا طاقتور حکمران بھی اپنے کبر کی وجہ سے اندھا ہو گیا تھا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی نشانیوں پر غور کریں، اپنے دلوں کو عاجزی اور انکساری سے بھریں، اور کبھی بھی حق کو قبول کرنے میں تکبر نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بارہا اس بات کی تلقین کی ہے کہ جو لوگ حق کو قبول کرتے ہیں اور اپنے رب کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں، ان کے لیے جنت اور خوشی ہے، اور جو تکبر کرتے ہیں، ان کے لیے ذلت اور عذاب ہے۔ آئیے ہم فرعون کے انجام سے سبق حاصل کریں اور اپنی زندگیوں کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالیں۔
اور پہلے یوسف بھی تمہارے پاس نشانیاں لے کر آئے تھے تو جو وہ لائے تھے اس سے تم ہمیشہ شک ہی میں رہے۔ یہاں تک کہ جب وہ فوت ہوگئے تو تم کہنے لگے کہ خدا اس کے بعد کبھی کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح خدا اس شخص کو گمراہ کر دیتا ہے جو حد سے نکل جانے والا اور شک کرنے والا ہو
جو لوگ بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی دلیل آئی ہو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں۔ خدا کے نزدیک اور مومنوں کے نزدیک یہ جھگڑا سخت ناپسند ہے۔ اسی طرح خدا ہر متکبر سرکش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے
(یعنی) آسمانوں کے رستوں پر، پھر موسیٰ کے خدا کو دیکھ لوں اور میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔ اور اسی طرح فرعون کو اس کے اعمال بد اچھے معلوم ہوتے تھے اور وہ رستے سے روک دیا گیا تھا۔ اور فرعون کی تدبیر تو بےکار تھی
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔