انسان بھلائی کی دعائیں کرتا کرتا تو تھکتا نہیں اور اگر تکلیف پہنچ جاتی ہے تو ناامید ہوجاتا اور آس توڑ بیٹھتا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لَا يَسْأَمُ: نہیں اکتاتا، نہیں تھکتا
دُعَاءِ الْخَيْرِ: بھلائی مانگنا، یعنی مال، صحت، اولاد اور دیگر نعمتیں طلب کرنا
مَسَّهُ الشَّرُّ: اسے تکلیف پہنچے، جیسے فقر، بیماری یا مصیبت
يَئُوسٌ: بہت زیادہ مایوس ہونے والا
قَنُوطٌ: رحمت الٰہی سے ناامید ہو کر ہر خیر سے مایوس ہونے والا
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں انسان کی فطرت کا ایک ایسا پہلو بیان فرما رہے ہیں جو ہر دور میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ انسان جب خوشحالی اور آسودگی کی حالت میں ہوتا ہے تو وہ اللہ سے بھلائی مانگتے نہیں تھکتا، ہمیشہ مزید مال، مزید صحت، مزید اولاد اور مزید نعمتوں کی دعا کرتا رہتا ہے۔ وہ کبھی اکتاہٹ محسوس نہیں کرتا، نہ ہی دعا سے تھکتا ہے۔ لیکن جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے، فقر و فاقہ آتا ہے، بیماری لاحق ہوتی ہے یا کوئی مصیبت آتی ہے، تو وہ صبر کے بجائے مایوسی اور قنوطیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ وہ اللہ کی رحمت سے ناامید ہو جاتا ہے اور اپنے رب کے فضل سے مایوس ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے انسان کی اس کمزوری کی نشاندہی فرمائی ہے تاکہ وہ اپنی اس خامی کو پہچانے اور اس پر قابو پائے۔ ایک مومن کو چاہیے کہ وہ خوشحالی میں شکر گزار ہو اور مصیبت میں صبر کرے۔ اسے کبھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اللہ کی رحمت سے صرف کافر ہی مایوس ہوتے ہیں" (یوسف: 87)۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک اہم سبق سکھاتی ہے کہ ہم اپنی زندگی میں توازن رکھیں۔ جب اللہ ہمیں نعمتیں دے تو ہم شکر کریں اور اس کی عبادت میں مشغول رہیں، اور جب کوئی مشکل آئے تو ہم صبر کریں اور اللہ سے امید نہ کھوئیں۔ یاد رکھیں، یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے، خوشی اور غم دونوں اللہ کی طرف سے ہیں۔ مومن کی پہچان یہ ہے کہ وہ دونوں حالتوں میں اللہ سے جڑا رہے۔ مصیبت میں مایوس ہونا شیطان کا کام ہے، کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ ہم اللہ کی رحمت سے ناامید ہو جائیں۔ لیکن ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی رحمت پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ وہی ہے جو مصیبت کو دور کرنے والا اور راحت دینے والا ہے۔ آئیے ہم اپنے رب سے یہ دعا کریں کہ وہ ہمیں صبر اور شکر کی توفیق دے اور ہمیں مایوسی اور قنوطیت سے بچائے۔
قیامت کے علم کا حوالہ اسی کی طرف دیا جاتا ہے (یعنی قیامت کا علم اسی کو ہے) اور نہ تو پھل گا بھوں سے نکلتے ہیں اور نہ کوئی مادہ حاملہ ہوتی اور نہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے۔ اور جس دن وہ ان کو پکارے گا (اور کہے گا) کہ میرے شریک کہاں ہیں تو وہ کہیں گے کہ ہم تجھ سے عرض کرتے ہیں کہ ہم میں سے کسی کو (ان کی) خبر ہی نہیں
اور اگر تکلیف پہنچنے کے بعد ہم اس کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو میرا حق تھا اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت برپا ہو۔ اور اگر (قیامت سچ مچ بھی ہو اور) میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو میرے لئے اس کے ہاں بھی خوشحالی ہے۔ پس کافر جو عمل کیا کرتے وہ ہم ان کو ضرور جتائیں گے اور ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔