محمد · 22/38
ترجمہ تلفظ — محمد
فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ ۝٢٢
Fahal `asaitum in tawallaitum an tufsidoo fil ardi wa tuqatti`ooo arhaamakum
📖 اردو ترجمہ
(اے منافقو!) تم سے عجب نہیں کہ اگر تم حاکم ہو جاؤ تو ملک میں خرابی کرنے لگو اور اپنے رشتوں کو توڑ ڈالو
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • عَسَيْتُمْ: امید ہے، یا خوف ہے، یعنی لگتا ہے کہ تم ایسا کرو گے۔
  • تَوَلَّیْتُمْ: پیٹھ پھیر لو، منہ موڑ لو، یعنی حکومت یا ذمہ داری سنبھال لو، یا حق سے اعراض کر لو۔
  • تُفْسِدُوا: فساد پھیلاؤ، خرابی کرو۔
  • أَرْحَامَكُمْ: رشتے داریاں، قرابت کے تعلقات۔

تفسیر:

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے ایک سخت سوالیہ انداز میں پوچھ رہے ہیں کہ کیا تم سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر تم پیٹھ پھیر لو، یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ سے اعراض کرو، یا زمین پر اقتدار و حکومت حاصل کر لو، تو تم زمین میں فساد برپا کرو گے اور اپنے رشتے داری کے تعلقات کو کاٹ ڈالو گے؟ یہ وہی روش ہے جو جاہلیت کے زمانے میں تھی، جب لوگ خونریزی کرتے تھے، کمزوروں پر ظلم ڈھاتے تھے، اور رشتہ داریوں کو بالکل اہمیت نہیں دیتے تھے۔

اس آیت میں مومنین کو متنبہ کیا گیا ہے کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ جب بھی تمہیں اقتدار ملے یا تمہارے پاس طاقت ہو، تو تم عدل کرو، اصلاح کرو، اور رشتہ داریوں کو جوڑو، نہ کہ فساد پھیلاؤ اور رشتے توڑو۔ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جو اللہ نے اہل ایمان کے کندھوں پر ڈالی ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام ہمیں امن، محبت اور رشتہ داریوں کا احترام سکھاتا ہے۔ جو شخص بھی مسلمان ہو کر اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتا ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ زمین پر اصلاح کرے، فساد نہ پھیلائے، اور اپنے رشتہ داروں سے حسن سلوک کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے" (بخاری)۔ صلہ رحمی یعنی رشتہ داروں سے اچھا سلوک کرنا، ان کی مدد کرنا، اور ان سے تعلقات کو مضبوط رکھنا۔ یہ چیز نہ صرف دنیا میں برکت کا سبب بنتی ہے بلکہ آخرت میں بھی نجات کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ہمیشہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کریں اور زمین پر فساد پھیلانے سے بچیں۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 20-24 — محمد

20وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٌ ۖ فَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ ۙ رَأَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۖ فَأَوْلَىٰ لَهُمْ
اور مومن لوگ کہتے ہیں کہ (جہاد کی) کوئی سورت کیوں نازل نہیں ہوتی؟ لیکن جب کوئی صاف معنوں کی سورت نازل ہو اور اس میں جہاد کا بیان ہو تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم ان کو دیکھو کہ تمہاری طرف اس طرح دیکھنے لگیں جس طرح کسی پر موت کی بےہوشی (طاری) ہو رہی ہو۔ سو ان کے لئے خرابی ہے
21طَاعَةٌ وَقَوْلٌ مَّعْرُوفٌ ۚ فَإِذَا عَزَمَ الْأَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا اللَّهَ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ
(خوب کام تو) فرمانبرداری اور پسندیدہ بات کہنا (ہے) پھر جب (جہاد کی) بات پختہ ہوگئی تو اگر یہ لوگ خدا سے سچے رہنا چاہتے تو ان کے لئے بہت اچھا ہوتا
22فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ
(اے منافقو!) تم سے عجب نہیں کہ اگر تم حاکم ہو جاؤ تو ملک میں خرابی کرنے لگو اور اپنے رشتوں کو توڑ ڈالو
23أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَىٰ أَبْصَارَهُمْ
یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور ان (کے کانوں) کو بہرا اور (ان کی) آنکھوں کو اندھا کردیا ہے
24أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا
بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر قفل لگ رہے ہیں
محمدقرآن فہرست
38آیت
مدنیRevelation
22آیت

ترجمہ — محمد 22

سورہ محمد آیت 22 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (اے منافقو!) تم سے عجب نہیں کہ اگر تم حاکم…

سورہ آیت 22/38 — محمد محمد (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: محمد سنیں, محمد ترجمہ, محمد mp3, محمد pdf. آیت 20–24. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں