ترجمہ — Tafsir
اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو کہ اگر وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں، اور اگر تم ان کے بارے میں اس وقت سوال کرو گے جب قرآن نازل ہو رہا ہے تو وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں گی، اللہ نے انہیں معاف کر دیا ہے، اور اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا بردبار ہے۔
معانی الفاظ:
- لَا تَسْأَلُوا: سوال نہ کرو، یعنی ایسے سوالات سے باز رہو جن کی ضرورت نہ ہو۔
- أَشْيَاءَ: چیزیں، یہاں مراد وہ امور ہیں جن کے بارے میں اللہ نے کوئی حکم نہیں دیا اور نہ ہی ان کی وضاحت کی گئی۔
- إِن تُبْدَ لَكُمْ: اگر وہ ظاہر کر دی جائیں، یعنی اگر ان کا حکم نازل ہو جائے۔
- تَسُؤْكُمْ: تمہیں بری لگیں، تمہیں تکلیف اور مشقت کا باعث ہوں۔
- حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ: جب قرآن نازل ہو رہا ہو، یعنی رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جب وحی کا سلسلہ جاری تھا۔
- عَفَا اللَّهُ عَنْهَا: اللہ نے ان سے درگزر فرمایا، یعنی ان کے بارے میں سوال نہ کرنے کی وجہ سے اللہ نے معاف کر دیا۔
تفسیر:
اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جن کا ذکر قرآن و سنت میں نہیں آیا، اور جن کے بارے میں اللہ نے خاموشی اختیار کی ہے۔ کیونکہ اگر تم ان کے بارے میں سوال کرو گے اور پھر ان کا حکم نازل ہو جائے گا، تو وہ حکم تم پر شاق اور مشکل ہو گا، اور تمہیں اس پر عمل کرنا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس سے منع کیا گیا کہ وہ ایسے سوالات نہ کریں جن سے شریعت میں سختی آ جائے۔
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جب قرآن نازل ہو رہا تھا، اگر کوئی شخص ایسے سوالات کرتا جن کا تعلق ان امور سے ہوتا جن کے بارے میں اللہ نے سکوت اختیار کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں حکم نازل فرما دیتا، اور وہ حکم لوگوں پر لازم ہو جاتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ان سوالات کو معاف فرما دیا، یعنی ان کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں کیا، تاکہ لوگوں پر آسانی رہے۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، وہ ان کی لغزشوں اور کوتاہیوں کو معاف فرما دیتا ہے، اور وہ بردبار ہے کہ جلد بازی میں سزا نہیں دیتا، بلکہ توبہ اور رجوع کرنے والوں کو معاف کر دیتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت کریمہ سے ہمیں ایک بہترین سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے دین میں نئی نئی باتیں ایجاد کرنے اور ایسے سوالات کرنے سے گریز کرنا چاہیے جن سے شریعت میں سختی آئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر آسانی پیدا کی ہے، اور ہمیں اس آسانی کو قبول کرنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دین کو آسان سمجھیں اور اس پر عمل کریں، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت پر بھروسہ رکھیں۔ اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا اور بردبار ہے، وہ چاہتا ہے کہ ہم اس کی طرف رجوع کریں اور اس کی رحمت سے امید رکھیں۔
📜 آیت 99-103 — مائدہ
ترجمہ — مائدہ 101
سورہ آیت 101/120 — مائدہ المائدة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مائدہ سنیں, مائدہ ترجمہ, مائدہ mp3, مائدہ pdf. آیت 99–103. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








