مائدہ · 101/120
ترجمہ تلفظ — مائدہ
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَسۡـَٔلُواْ عَنۡ أَشۡيَآءَ إِن تُبۡدَ لَكُمۡ تَسُؤۡكُمۡ وَإِن تَسۡـَٔلُواْ عَنۡهَا حِينَ يُنَزَّلُ ٱلۡقُرۡءَانُ تُبۡدَ لَكُمۡ عَفَا ٱللَّهُ عَنۡهَاۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ  ۝١٠١
yaaa aiyuhal lazeena aamanoo laa tas`aloo `an ashyaaa`a in tubda lakum tasu`kum wa in tas`aloo `anhaa heena yunazzalul Qur`aanu tubda lakum; `afallaahu `anhaa; wallaahu Ghafoorun Haleem
📖 اردو ترجمہ
مومنو! ایسی چیزوں کے بارے میں مت سوال کرو کہ اگر (ان کی حقیقتیں) تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر قرآن کے نازل ہونے کے ایام میں ایسی باتیں پوچھو گے تو تم پر ظاہر بھی کر دی جائیں گی (اب تو) خدا نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے اور خدا بخشنے والا بردبار ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

اے ایمان والو! ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو کہ اگر وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں، اور اگر تم ان کے بارے میں اس وقت سوال کرو گے جب قرآن نازل ہو رہا ہے تو وہ تم پر ظاہر کر دی جائیں گی، اللہ نے انہیں معاف کر دیا ہے، اور اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا بردبار ہے۔

معانی الفاظ:

  • لَا تَسْأَلُوا: سوال نہ کرو، یعنی ایسے سوالات سے باز رہو جن کی ضرورت نہ ہو۔
  • أَشْيَاءَ: چیزیں، یہاں مراد وہ امور ہیں جن کے بارے میں اللہ نے کوئی حکم نہیں دیا اور نہ ہی ان کی وضاحت کی گئی۔
  • إِن تُبْدَ لَكُمْ: اگر وہ ظاہر کر دی جائیں، یعنی اگر ان کا حکم نازل ہو جائے۔
  • تَسُؤْكُمْ: تمہیں بری لگیں، تمہیں تکلیف اور مشقت کا باعث ہوں۔
  • حِينَ يُنَزَّلُ الْقُرْآنُ: جب قرآن نازل ہو رہا ہو، یعنی رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جب وحی کا سلسلہ جاری تھا۔
  • عَفَا اللَّهُ عَنْهَا: اللہ نے ان سے درگزر فرمایا، یعنی ان کے بارے میں سوال نہ کرنے کی وجہ سے اللہ نے معاف کر دیا۔

تفسیر:

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت فرماتا ہے کہ ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو جن کا ذکر قرآن و سنت میں نہیں آیا، اور جن کے بارے میں اللہ نے خاموشی اختیار کی ہے۔ کیونکہ اگر تم ان کے بارے میں سوال کرو گے اور پھر ان کا حکم نازل ہو جائے گا، تو وہ حکم تم پر شاق اور مشکل ہو گا، اور تمہیں اس پر عمل کرنا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس سے منع کیا گیا کہ وہ ایسے سوالات نہ کریں جن سے شریعت میں سختی آ جائے۔

رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جب قرآن نازل ہو رہا تھا، اگر کوئی شخص ایسے سوالات کرتا جن کا تعلق ان امور سے ہوتا جن کے بارے میں اللہ نے سکوت اختیار کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں حکم نازل فرما دیتا، اور وہ حکم لوگوں پر لازم ہو جاتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ان سوالات کو معاف فرما دیا، یعنی ان کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں کیا، تاکہ لوگوں پر آسانی رہے۔

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، وہ ان کی لغزشوں اور کوتاہیوں کو معاف فرما دیتا ہے، اور وہ بردبار ہے کہ جلد بازی میں سزا نہیں دیتا، بلکہ توبہ اور رجوع کرنے والوں کو معاف کر دیتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت کریمہ سے ہمیں ایک بہترین سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے دین میں نئی نئی باتیں ایجاد کرنے اور ایسے سوالات کرنے سے گریز کرنا چاہیے جن سے شریعت میں سختی آئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر آسانی پیدا کی ہے، اور ہمیں اس آسانی کو قبول کرنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دین کو آسان سمجھیں اور اس پر عمل کریں، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت پر بھروسہ رکھیں۔ اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا اور بردبار ہے، وہ چاہتا ہے کہ ہم اس کی طرف رجوع کریں اور اس کی رحمت سے امید رکھیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 99-103 — مائدہ

99مَّا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلۡبَلَٰغُۗ وَٱللَّهُ يَعۡلَمُ مَا تُبۡدُونَ وَمَا تَكۡتُمُونَ 
پیغمبر کے ذمے تو صرف پیغام خدا کا پہنچا دینا ہے اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ مخفی کرتے ہو خدا کو سب معلوم ہے
100قُل لَّا يَسۡتَوِي ٱلۡخَبِيثُ وَٱلطَّيِّبُ وَلَوۡ أَعۡجَبَكَ كَثۡرَةُ ٱلۡخَبِيثِۚ فَٱتَّقُواْ ٱللَّهَ يَٰٓأُوْلِي ٱلۡأَلۡبَٰبِ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ 
کہہ دو کہ ناپاک چیزیں اور پاک چیزیں برابر نہیں ہوتیں گو ناپاک چیزوں کی کثرت تمہیں خوش ہی لگے تو عقل والو خدا سے ڈرتے رہو تاکہ رستگاری حاصل کرو
101يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَسۡـَٔلُواْ عَنۡ أَشۡيَآءَ إِن تُبۡدَ لَكُمۡ تَسُؤۡكُمۡ وَإِن تَسۡـَٔلُواْ عَنۡهَا حِينَ يُنَزَّلُ ٱلۡقُرۡءَانُ تُبۡدَ لَكُمۡ عَفَا ٱللَّهُ عَنۡهَاۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ 
مومنو! ایسی چیزوں کے بارے میں مت سوال کرو کہ اگر (ان کی حقیقتیں) تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں اور اگر قرآن کے نازل ہونے کے ایام میں ایسی باتیں پوچھو گے تو تم پر ظاہر بھی کر دی جائیں گی (اب تو) خدا نے ایسی باتوں (کے پوچھنے) سے درگزر فرمایا ہے اور خدا بخشنے والا بردبار ہے
102قَدۡ سَأَلَهَا قَوۡمٌ مِّن قَبۡلِكُمۡ ثُمَّ أَصۡبَحُواْ بِهَا كَٰفِرِينَ 
اس طرح کی باتیں تم سے پہلے لوگوں نے بھی پوچھی تھیں (مگر جب بتائی گئیں تو) پھر ان سے منکر ہو گئے
103مَا جَعَلَ ٱللَّهُ مِنۢ بَحِيرَةٍ وَلَا سَآئِبَةٍ وَلَا وَصِيلَةٍ وَلَا حَامٍ وَلَٰكِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يَفۡتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلۡكَذِبَۖ وَأَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡقِلُونَ 
خدا نے نہ تو بحیرہ کچھ چیز بنایا ہے اور نہ سائبہ اور نہ وصیلہ اور نہ حام بلکہ کافر خدا پر جھوٹ افترا کرتے ہیں اور یہ اکثر عقل نہیں رکھتے
مائدہقرآن فہرست
120آیت
مدنیRevelation
101آیت

ترجمہ — مائدہ 101

سورہ آیت 101/120 — مائدہ المائدة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: مائدہ سنیں, مائدہ ترجمہ, مائدہ mp3, مائدہ pdf. آیت 99–103. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں