ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- حِجَارَةً: پتھر
- مِّن طِينٍ: مٹی سے (یہاں مراد سخت اور پکی ہوئی مٹی ہے)
تفسیر:
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب فرشتوں سے پوچھا کہ آپ لوگ کس مقصد سے تشریف لائے ہیں؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے ان مجرم قوم کی طرف بھیجا ہے جو کفر و شرک اور بے حیائی میں حد سے تجاوز کر چکی ہے۔ ہم ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسانے والے ہیں۔ یہ پتھر آگ میں پکائے گئے تھے اور اللہ کے ہاں ان پر ان ظالموں کے نام درج تھے۔ یہ عذاب اس قوم کے لیے تھا جس نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا اور اپنی سرکشی میں حد سے بڑھ گئے۔
یہ وہی قوم تھی جس پر اللہ نے پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسائے اور انہیں تباہ و برباد کر دیا۔ یہ واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نافرمان بندوں کو کس طرح سزا دیتا ہے۔ جب کوئی قوم حد سے تجاوز کر جائے اور اللہ کے احکامات کو ماننے سے انکار کر دے تو اللہ کا عذاب آ کر رہتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ بہت سخت ہے۔ جو لوگ اللہ کے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور اپنی سرکشی میں حد سے بڑھ جاتے ہیں، ان کا انجام برا ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے احکامات پر عمل کریں اور اس کی رحمت کے طالب رہیں۔ اللہ تعالیٰ بہت رحم فرمانے والا ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلائیں اور اس کی نافرمانی سے بچیں تاکہ ہم اس کے عذاب سے محفوظ رہیں اور اس کی رحمت کے مستحق بنیں۔
📜 آیت 31-35 — سورہ ذاریات
ترجمہ — ذاریات 33
سورہ ذاریات آیت 33 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تاکہ ان پر کھنگر برسائیںسورہ آیت 33/60 — سورہ ذاریات الذاريات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ ذاریات سنیں, سورہ ذاریات ترجمہ, سورہ ذاریات mp3, سورہ ذاریات pdf. آیت 31–35. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, September 8, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








