ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تَسِيرُ: چلنا، حرکت کرنا
- الْجِبَالُ: پہاڑ
- سَيْرًا: چلنا، رفتار سے حرکت کرنا
تفسیر آیت:
اس آیت میں قیامت کے ایک ہولناک منظر کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس دن پہاڑ اپنی جگہوں سے اکھڑ کر چلیں گے، جیسے بادل ہوا کے جھونکے سے چلتے ہیں۔ پہاڑ جو زمین میں پتھر کے بڑے بڑے ٹکڑوں کی صورت میں جمے ہوئے ہیں اور جنہیں کوئی طاقت ہلا نہیں سکتی، وہ اس دن اس قدر ہلکے ہو جائیں گے کہ اپنی جگہ سے نکل کر ریت کی طرح بکھر جائیں گے۔ پھر وہ چلتے چلتے ریزہ ریزہ ہو جائیں گے، یہاں تک کہ دھنکی ہوئی روئی کی طرح نرم اور باریک ہو جائیں گے۔
یہ منظر اس دن کی عظمت اور ہولناکی کو ظاہر کرتا ہے جب اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے کائنات کے نظام کو بدل دے گا۔ جس طرح آج پہاڑ اپنی جگہوں پر قائم ہیں اور لوگ انہیں دیکھ کر اللہ کی قدرت کا اندازہ لگاتے ہیں، اسی طرح قیامت کے دن انہیں پہاڑوں کو اس طرح اڑاتے ہوئے دیکھ کر لوگوں کو یقین آ جائے گا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ دنیا کی یہ بڑی سے بڑی طاقتیں، چاہے وہ پہاڑ ہوں یا انسانوں کی سلطنتیں، سب اللہ کے حکم کے سامنے بے بس ہیں۔ جس دن اللہ چاہے گا، یہ سب کچھ تباہ ہو جائے گا۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم دنیا کے ان بڑے بڑے مظاہر پر مغرور نہ ہوں، بلکہ اللہ کی اطاعت اور اس کی عبادت میں اپنی زندگی گزاریں۔ جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نیک اعمال کرتا ہے، اسے اس دن کی ہولناکیوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ وہ اللہ کی رحمت کے سائے میں محفوظ رہے گا۔
یاد رکھیں! یہ دنیا فانی ہے، اس کی ہر چیز ختم ہونے والی ہے، لیکن اللہ کی ذات باقی رہنے والی ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالنا چاہیے تاکہ ہم اس عظیم دن کی پریشانیوں سے محفوظ رہیں اور جنت کی نعمتوں سے مالامال ہوں۔
📜 آیت 8-12 — طور
ترجمہ — طور 10
سورہ طور آیت 10 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور پہاڑ اُڑنے لگے اون ہو کرسورہ آیت 10/49 — طور الطور (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طور سنیں, طور ترجمہ, طور mp3, طور pdf. آیت 8–12. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








