ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَوَيْلٌ: ہلاکت، تباہی اور عذاب
- يَوْمَئِذٍ: اس دن (قیامت کے دن)
- لِلْمُكَذِّبِينَ: جھٹلانے والوں کے لیے
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن ان لوگوں کے لیے ہلاکت اور تباہی کا اعلان فرمایا ہے جو رسولوں اور اللہ کے وعدوں کو جھٹلاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حق کے سامنے آنے پر اسے تسلیم کرنے کے بجائے اس کا مذاق اڑاتے ہیں، باطل میں غوطہ زن رہتے ہیں اور اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیتے ہیں۔
یہاں "ویل" کا لفظ عذاب اور ہلاکت کے شدید ترین معنی رکھتا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان جھٹلانے والوں کا انجام کتنا برا ہوگا۔ وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا، اللہ کی آیات کو جھٹلایا، اور آخرت کے دن کو جھٹلایا، ان کے لیے اس دن سخت ترین عذاب ہے۔
اس آیت میں ایک اہم تنبیہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ حق کو قبول کرنے میں جلدی کرے، کیونکہ حق کو جھٹلانے کا انجام بہت برا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم فرماتے ہوئے انہیں اس عذاب سے ڈرایا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی سنوار لیں اور اللہ کی رحمت کے مستحق بن جائیں۔
یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ بہت رحم کرنے والا ہے، وہ چاہتا ہے کہ ہم اس کی طرف رجوع کریں، توبہ کریں اور نیک اعمال کریں۔ جو لوگ اس دعوتِ حق کو قبول کر لیں گے، ان کے لیے جنت کی خوشیاں ہیں، اور جو جھٹلائیں گے، ان کے لیے ہلاکت ہے۔ اللہ ہمیں حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 9-13 — طور
ترجمہ — طور 11
سورہ طور آیت 11 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اس دن جھٹلانے والوں کے لئے خرابی ہےسورہ آیت 11/49 — طور الطور (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طور سنیں, طور ترجمہ, طور mp3, طور pdf. آیت 9–13. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








