ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- إِنْ هُوَ: یہ ضمیر نبی کریم ﷺ کے قول و نطق کی طرف اشارہ ہے۔
- وَحْيٌ يُوحَىٰ: وہ وحی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی جاتی ہے، یعنی فرشتے کے ذریعے دل پر ڈالی جانے والی بات۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب محمد ﷺ کی شانِ اقدس کو واضح فرمایا ہے کہ آپ ﷺ جو کچھ بھی بیان فرماتے ہیں، خواہ وہ قرآن ہو یا حدیثِ نبوی، وہ آپ کی اپنی رائے یا خواہشِ نفس کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ وہ خالص وحیِ الٰہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر نازل کی جاتی ہے۔ یہ وحی حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کے ذریعے لائی جاتی ہے، اور آپ ﷺ اسے بلا کسی کمی بیشی کے امت تک پہنچاتے ہیں۔
یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کریم ﷺ کا ہر قول، ہر فعل اور ہر حکم اللہ کی طرف سے ہے۔ آپ ﷺ نے کبھی اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کہی، نہ قرآن میں اور نہ حدیث میں۔ یہی وجہ ہے کہ امتِ مسلمہ کے لیے آپ ﷺ کی سنت بھی حجت ہے، کیونکہ وہ بھی وحیِ الٰہی کا ایک حصہ ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہماری نجات کا واحد ذریعہ قرآن و سنت ہے، کیونکہ یہ دونوں اللہ کی طرف سے نازل شدہ وحی ہیں۔ جس شخص نے ان دونوں کو تھام لیا، وہ گمراہی سے محفوظ رہا۔ آج ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں کو اس وحیِ الٰہی کے مطابق ڈھالیں، کیونکہ یہی ہمارے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی کا ضامن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو جو اعلیٰ مقام عطا کیا ہے، اس کی وجہ یہی ہے کہ آپ ﷺ نے وحی کو اپنی زندگی کا محور بنایا۔ ہمیں بھی اپنے معمولات کو اس وحی کے تابع کرنا چاہیے تاکہ ہم اللہ کے محبوب بندے بن سکیں۔
📜 آیت 2-6 — نجم
ترجمہ — نجم 4
سورہ نجم آیت 4 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یہ (قرآن) تو حکم خدا ہے جو (ان کی طرف)…سورہ آیت 4/62 — نجم النجم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نجم سنیں, نجم ترجمہ, نجم mp3, نجم pdf. آیت 2–6. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








