ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- یَنطِقُ: بولنا، گفتار کرنا
- الهَوَىٰ: نفس کی خواہش، دل کی مرضی، جھوٹی آرزو
تفسیر آیت:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس بیان فرما رہے ہیں۔ اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ بھی بولتے ہیں، وہ اپنی نفسانی خواہشات سے نہیں بولتے، نہ ہی آپ کا کوئی قول ذاتی رائے یا دل کی مرضی پر مبنی ہوتا ہے۔
یہ بات دراصل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت اور آپ کے قول کی صداقت کا ثبوت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر بات اللہ کے حکم اور اس کی وحی کے مطابق فرماتے تھے۔ آپ کی زبانِ مبارک سے کوئی جھوٹ، کوئی باطل، کوئی لغو اور کوئی خواہشِ نفس پر مبنی کلام صادر نہیں ہوتا تھا۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول اور فعل درحقیقت اللہ کی طرف سے ہوتا تھا، اس لیے آپ کی سنت کو بھی قرآن کی طرح حجت اور دلیل مانا جائے گا۔ جو شخص آپ کی اتباع کرتا ہے، وہ حقیقت میں اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے مسلمانوں! یہ آیت ہمارے لیے بہت بڑی نعمت اور رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کی غلطی اور خواہشِ نفس سے پاک رکھا، تاکہ ہم بلا کسی شک و شبہ کے آپ کی ہدایت پر چل سکیں۔ آج اگر ہم اپنی زندگیوں میں سکون اور کامیابی چاہتے ہیں، تو اس کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ ہم اپنے نفس کی خواہشات کو چھوڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو اپنائیں۔ کیونکہ جو شخص اپنے نفس کی پیروی کرتا ہے، وہ گمراہ ہو جاتا ہے، لیکن جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتا ہے، وہ سیدھے راستے پر چلتا ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ڈھالیں، کیونکہ یہی کامیابی اور نجات کا راستہ ہے۔
📜 آیت 1-5 — نجم
ترجمہ — نجم 3
سورہ نجم آیت 3 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور نہ خواہش نفس سے منہ سے بات نکالتے ہیںسورہ آیت 3/62 — نجم النجم (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نجم سنیں, نجم ترجمہ, نجم mp3, نجم pdf. آیت 1–5. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








