ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الْآخِرِينَ: پچھلی امتوں میں سے مراد امت محمدیہ ﷺ کے بعد والے لوگ یا پچھلی امتوں کے متاخرین۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جنت کے قریب مقام پانے والے (سابقون) دو قسم کے ہیں: ایک وہ جو پہلی امتوں میں سے تھے، اور دوسرے وہ جو آخری امت (امت محمدیہ ﷺ) میں سے ہیں۔ پہلی امتوں میں سے تو بہت بڑی جماعت ہوگی، لیکن آخری امت میں سے وہ کم تعداد میں ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ امت محمدیہ ﷺ کی فضیلت کم ہے، بلکہ اس لیے کہ پچھلی امتوں کا زمانہ بہت طویل تھا اور ان میں انبیاء کی تعداد زیادہ تھی، اس لیے ان کی تعداد زیادہ نظر آئے گی۔ جبکہ امت محمدیہ ﷺ کا زمانہ مختصر ہے، اس لیے ان میں سے سابقون کی تعداد کم ہوگی۔ لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ امت محمدیہ ﷺ کی فضیلت اور عظمت سب سے زیادہ ہے، اور ان میں سے جو لوگ سابقون کے درجے پر فائز ہوں گے، ان کا مقام بہت بلند ہوگا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے ایمان اور عمل کو مضبوط کرنا چاہیے تاکہ ہم ان سابقون میں شامل ہو سکیں جو جنت کے اعلیٰ درجات حاصل کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس امت میں پیدا کرکے بڑی فضیلت دی ہے، لیکن یہ فضیلت صرف نام کی نہیں، بلکہ عمل کی محتاج ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کو سنواریں، اپنے دلوں کو پاک کریں، اور اللہ کی رضا کے لیے اپنی زندگیاں گزاریں تاکہ ہم بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہوں جو جنت کے اعلیٰ مقامات پر فائز ہوں گے۔ یاد رکھیں، جنت کی راہ آسان نہیں، لیکن اللہ کی رحمت اور اس کی مدد سے ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے۔ آئیے ہم سب مل کر اس راہ پر چلنے کی کوشش کریں اور اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں سابقون میں شامل فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 12-16 — واقعہ
ترجمہ — واقعہ 14
سورہ واقعہ آیت 14 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور تھوڑے سے پچھلوں میں سےسورہ آیت 14/96 — واقعہ الواقعة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: واقعہ سنیں, واقعہ ترجمہ, واقعہ mp3, واقعہ pdf. آیت 12–16. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








