Wallazeena yuzaahiroona min nisaaa`ihim summa ya`oodoona limaa qaaloo fatabreeru raqabatim min qabli any-yatamaaassaa; zaalikum too`azoona bih; wallaahu bimaa ta`maloona khabeer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ بیٹھیں پھر اپنے قول سے رجوع کرلیں تو (ان کو) ہم بستر ہونے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا (ضروری) ہے۔ (مومنو) اس (حکم) سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آنهايى كه زنانشان را ظهار مىكنند، آنگاه از آنچه گفتهاند پشيمان مىشوند، پيش از آنكه با يكديگر تماس يابند، بايد بندهاى آزاد كنند. اين پندى است كه به شما مىدهند و خدا به كارهايى كه مىكنيد آگاه است.
اور جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ بیٹھیں پھر اپنے قول سے رجوع کرلیں تو (ان کو) ہم بستر ہونے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا (ضروری) ہے۔ (مومنو) اس (حکم) سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یُظَاهِرُونَ: ظِہار کرنا، یعنی اپنی بیوی کو ماں کہہ دینا (جاہلیت کا ایک قبیح فعل)۔
یَعُودُونَ لِمَا قَالُوا: اپنے اس قول سے رجوع کرنا اور بیوی سے جماع کا ارادہ کرنا۔
تَحْرِیرُ رَقَبَةٍ: کسی غلام یا لونڈی کو آزاد کرنا۔
یَتَمَاسَّا: ایک دوسرے کو چھونا، یعنی جماع کرنا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ظِہار کے احکام بیان فرما رہے ہیں۔ ظِہار جاہلیت کا ایک انتہائی برا فعل تھا جس میں مرد اپنی بیوی سے کہتا تھا: "تم میرے لیے میری ماں کی پیٹھ کی مانند ہو" یعنی تم مجھ پر حرام ہو۔ یہ ایک جھوٹا اور باطل قول تھا جس سے عورت کو شدید تکلیف پہنچتی تھی۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے ظِہار کریں، پھر اپنے اس قول سے رجوع کریں اور بیوی سے جماع کا ارادہ کریں، تو ان پر لازم ہے کہ اس سے پہلے کہ وہ ایک دوسرے کو چھوئیں (جماع کریں)، ایک گردن آزاد کریں، یعنی ایک مسلمان غلام یا لونڈی کو آزاد کریں۔ یہ اس لیے ہے کہ یہ کفارہ ان کے اس سنگین گناہ کا ازالہ ہو۔
یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے تاکہ تمہیں نصیحت ہو اور تم اس برے فعل سے باز آؤ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے خوب واقف ہے، چھوٹا یا بڑا کوئی عمل اس سے پوشیدہ نہیں، اور وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں اسلام کی عظمت اور حکمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسلام نے عورت کی عزت و تکریم کو اتنا اہمیت دی کہ ایک بے بنیاد اور تکلیف دہ قول کو گناہ قرار دے کر اس کا کفارہ مقرر کیا۔ یہ دینِ اسلام ہی ہے جو عورت کو مکمل عزت دیتا ہے اور اسے ظلم سے بچاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زبان کی حفاظت کریں، کیونکہ زبان کا ایک لفظ خاندان کو تباہ کر سکتا ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر کوئی غلطی ہو جائے تو توبہ اور کفارے کے ذریعے اسے صاف کیا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے اور اپنے بندوں کی بھلائی چاہتا ہے، اس لیے اس نے ہر مشکل کا حل اور ہر گناہ کا کفارہ مقرر کیا ہے۔ آئیے ہم اپنے خاندانوں کو محبت، عزت اور احترام کی بنیاد پر استوار کریں اور اللہ کے احکام پر عمل کرتے ہوئے دنیا و آخرت کی کامیابی حاصل کریں۔
(اے پیغمبر) جو عورت تم سے اپنے شوہر کے بارے میں بحث جدال کرتی اور خدا سے شکایت (رنج وملال) کرتی تھی۔ خدا نے اس کی التجا سن لی اور خدا تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا دیکھتا ہے
جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں کو ماں کہہ دیتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں (ہوجاتیں) ۔ ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وہ پیدا ہوئے۔ بےشک وہ نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور خدا بڑا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے
اور جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ بیٹھیں پھر اپنے قول سے رجوع کرلیں تو (ان کو) ہم بستر ہونے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا (ضروری) ہے۔ (مومنو) اس (حکم) سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے
جس کو غلام نہ ملے وہ مجامعت سے پہلے متواتر دو مہینے کے روزے (رکھے) جس کو اس کا بھی مقدور نہ ہوا (اسے) ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا (چاہیئے) ۔ یہ (حکم) اس لئے (ہے) کہ تم خدا اور اسکے رسول کے فرمانبردار ہوجاؤ۔ اور یہ خدا کی حدیں ہیں۔ اور نہ ماننے والوں کے لئے درد دینے والا عذاب ہے
جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ (اسی طرح) ذلیل کئے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے لوگ ذلیل کئے گئے تھے اور ہم نے صاف اور صریح آیتیں نازل کردی ہیں۔ جو نہیں مانتے ان کو ذلت کا عذاب ہوگا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔