ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ: اُن کی قوم نے اُن سے جھگڑا کیا، بحث و مباحثہ کیا۔
- أَتُحَاجُّونِّي: کیا تم مجھ سے بحث کرتے ہو، کیا تم مجھے جھٹلاتے ہو۔
- وَقَدْ هَدَانِ: حالانکہ اللہ نے مجھے ہدایت دے دی ہے۔
- لَا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ: میں اُن چیزوں سے نہیں ڈرتا جنہیں تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو۔
- وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا: میرے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔
- أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ: کیا تم غور و فکر نہیں کرتے؟
تفسیر:
یہ آیت مبارکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس عظیم مناظرے کا ذکر کرتی ہے جو اُن کی قوم کے ساتھ ہوا۔ جب اُنہوں نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا اور توحید کی دعوت دی، تو اُن کی قوم نے اُن سے جھگڑا کیا اور اُنہیں ڈرانا شروع کیا کہ اگر تم نے ہمارے معبودوں کی مخالفت کی تو یہ تمہیں نقصان پہنچا دیں گے۔ اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بڑے ہی پُرمغز اور مدلل انداز میں جواب دیا۔
اُنہوں نے فرمایا: "کیا تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو؟ حالانکہ اللہ نے مجھے ہدایت دے دی ہے۔" یعنی جس رب نے مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا، میں اُس کی توحید پر قائم ہوں، پھر تم مجھ سے کیوں بحث کرتے ہو؟ کیا تمہیں یقین ہے کہ میں گمراہ ہوں؟ حالانکہ میں تو ہدایت یافتہ ہوں۔
پھر اُنہوں نے اپنے دل کی مضبوطی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: "میں اُن چیزوں سے نہیں ڈرتا جنہیں تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو۔" یعنی تمہارے یہ بت، تمہاری یہ مورتیاں، یہ سب کچھ نہیں کر سکتیں۔ یہ نہ نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان۔ میں اِن سے کیوں ڈروں؟ البتہ اگر میرا رب کچھ چاہے تو وہی ہو کر رہے گا، کیونکہ اُسی کا حکم چلتا ہے۔ میرے رب کا علم ہر چیز پر محیط ہے، وہ ہر ذرے کو جانتا ہے، ہر حرکت سے باخبر ہے۔
آخر میں اُنہوں نے اپنی قوم کو غور و فکر کی دعوت دی: "کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟" یعنی ذرا سوچو تو سہی، کیا یہ پتھر تمہیں فائدہ یا نقصان پہنچا سکتے ہیں؟ کیا یہ تمہاری سن سکتے ہیں؟ کیا یہ تمہاری حاجتیں پوری کر سکتے ہیں؟ پھر تم اِن کی عبادت کیوں کرتے ہو؟ عقل سلیم تو یہی کہتی ہے کہ عبادت اُسی کی ہونی چاہیے جو حقیقی خالق و مالک ہو۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ حق پر قائم رہنے والے کو کسی کا ڈر نہیں ہوتا۔ جب دل میں یقینِ کامل ہو کہ اللہ ہی سب کچھ کرنے والا ہے، تو پھر کوئی طاقت ہمیں راہِ حق سے نہیں ہٹا سکتی۔ آج بھی جب ہم کسی برائی کا انکار کرتے ہیں، جب ہم کسی ظالم کے سامنے حق بات کہتے ہیں، تو ہمیں ڈرایا جاتا ہے۔ لیکن مومن کا دل مضبوط ہوتا ہے، وہ جانتا ہے کہ اصل حاکم صرف اللہ ہے۔ ہمیں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح بے خوف ہو کر حق پر قائم رہنا چاہیے، اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں یقینِ کامل عطا فرمائے اور ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔
📜 آیت 78-82 — انعام
ترجمہ — انعام 80
سورہ انعام آیت 80 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ان کی قوم ان سے بحث کرنے لگی تو…سورہ آیت 80/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 78–82. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








