ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- سُلطانًا: دلیل، برہان، حجت
- أَحَقُّ بِالأَمْنِ: امن و سلامتی کا زیادہ حقدار
- تَعْلَمُونَ: جانتے ہو، سمجھتے ہو
تفسیر:
حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم سے فرما رہے ہیں: مجھے ان بتوں سے کیسے ڈر لگ سکتا ہے جنہیں تم نے اللہ کے ساتھ شریک بنا رکھا ہے؟ یہ تو نہ کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں، نہ نقصان۔ یہ تمہارے ہاتھوں کی بنائی ہوئی مخلوق ہیں، ان میں کوئی طاقت نہیں۔ لیکن تمہیں اللہ سے ڈر نہیں آتا، جس نے تمہیں پیدا کیا، تمہیں رزق دیا، تمہیں زمین پر آباد کیا اور تمہیں عقل و شعور عطا کیا۔ تم اس کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہراتے ہو جن کے بارے میں اللہ نے کوئی دلیل یا حجت نازل نہیں کی۔
پھر آپ علیہ السلام نے ایک زبردست سوال اٹھایا: "بتاؤ، ان دو گروہوں میں سے کون سا گروہ امن و سلامتی کا زیادہ حقدار ہے؟" ایک گروہ وہ ہے جو صرف اللہ کی عبادت کرتا ہے، اس پر بھروسہ رکھتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے، بےبس مخلوق کو پوجتا ہے اور اپنے خالق سے بےخوف ہو جاتا ہے۔
یقیناً جس کا دل اللہ کی توحید پر مضبوط ہو، جس کا بھروسہ صرف اللہ پر ہو، وہی حقیقی امن و سکون پاتا ہے۔ اسے نہ کسی بت کا ڈر ہوتا ہے، نہ کسی مخلوق کی طاقت کا خوف۔ اس کا دل اللہ کے ذکر سے مطمئن رہتا ہے۔ جبکہ مشرک کا دل ہمیشہ بےچین رہتا ہے، کیونکہ وہ بےاختیار چیزوں کے سہارے جی رہا ہوتا ہے۔
یہ وہ عظیم پیغام ہے جو آج بھی ہر انسان کے لیے روشنی ہے۔ اگر ہم سمجھ لیں کہ امن و سلامتی کا راستہ صرف اللہ کی توحید میں ہے، تو ہماری زندگیاں بھی سکون اور برکت سے بھر جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں شرک سے بچائے اور خالص توحید پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 79-83 — انعام
ترجمہ — انعام 81
سورہ انعام آیت 81 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بھلا میں ان چیزوں سے جن کو تم (خدا کا)…سورہ آیت 81/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 79–83. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








