ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَطَرَ: پیدا کیا، بغیر کسی سابقہ نمونے کے تخلیق کیا۔
- حَنِیفًا: شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف مائل ہونے والا، حق کی طرف راغب۔
تفسیر:
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ قول ہے جو انہوں نے اپنی قوم کے سامنے بیان کیا، جب انہوں نے ستاروں، چاند اور سورج کی عبادت سے منہ موڑا اور ان کی بطلان کو واضح کیا۔ وہ فرما رہے ہیں: میں نے اپنا رخ، اپنی عبادت اور اپنی تمام تر توجہ اس ذات کی طرف کر لی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، بغیر کسی سابقہ نمونے کے۔ میں اس کی عبادت میں یکسو ہو گیا ہوں، شرک سے ہٹ کر خالص توحید کی طرف مائل ہوں۔ اور میں ہرگز ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہراتے ہیں۔
یہ اعلان محض ایک دعویٰ نہیں تھا بلکہ ایک عملی نمونہ تھا جو ہر مسلمان کے لیے مشعل راہ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے قول اور فعل سے ثابت کیا کہ توحید ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو عزت اور سکون دیتا ہے۔ انہوں نے اپنے معاشرے کے تمام باطل عقائد کو چیلنج کیا اور صرف اللہ کی طرف متوجہ ہوئے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہماری زندگی کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہونی چاہیے۔ ہمیں اپنے تمام معاملات میں اخلاص پیدا کرنا چاہیے اور ہر قسم کے شرک سے بچنا چاہیے۔ شرک صرف بت پرستی کا نام نہیں بلکہ ریاکاری، دنیا کی محبت اور اللہ کے سوا کسی اور پر بھروسہ کرنا بھی شرک کی اقسام میں شامل ہے۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے ایمان کا اعلان کھلے دل سے کرنا چاہیے، چاہے معاشرہ ہم سے مخالف ہی کیوں نہ ہو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اکیلی قوم کے سامنے حق کا اعلان کیا اور اللہ نے انہیں کامیابی عطا فرمائی۔ آج بھی جو شخص اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اللہ اسے دنیا اور آخرت میں عزت عطا فرماتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اپنے دین پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں شرک اور اس کے تمام اقسام سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
📜 آیت 77-81 — انعام
ترجمہ — انعام 79
سورہ انعام آیت 79 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : میں نے سب سے یکسو ہو کر اپنے تئیں اسی…سورہ آیت 79/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 77–81. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








