اعراف · 127/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
وَقَالَ الْمَلَأُ مِن قَوْمِ فِرْعَوْنَ أَتَذَرُ مُوسَىٰ وَقَوْمَهُ لِيُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ ۚ قَالَ سَنُقَتِّلُ أَبْنَاءَهُمْ وَنَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قَاهِرُونَ ۝١٢٧
Wa qaalal mala-u min qawmi Fir`awna atazaru Moosaa wa qawmahoo liyufsidoo fil ardi wa yazaraka wa aalihatak; qaala sanuqattilu abnaaa `ahum wa nastahyee nisaaa`ahum wa innaa fawqahum qaahiroon
📖 اردو ترجمہ
اور قومِ فرعون میں جو سردار تھے کہنے لگے کہ کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دیجیے گا کہ ملک میں خرابی کریں اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں۔ وہ بولے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کرڈالیں گے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیں گے اور بےشک ہم ان پر غالب ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • الْمَلَأُ: سرداران، عمائد قوم، معزز لوگ۔
  • أَتَذَرُ: کیا تم چھوڑ دو گے؟ (یعنی کیا تم انہیں آزاد چھوڑ دو گے؟)
  • لِيُفْسِدُوا: تاکہ وہ فساد پھیلائیں۔
  • وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ: اور تمہیں اور تمہارے معبودوں کو چھوڑ دیں (یعنی تمہاری عبادت اور تمہارے خداؤں کی عبادت ترک کر دیں
  • سَنُقَتِّلُ: ہم قتل کریں گے (بکثرت قتل کریں گے
  • نَسْتَحْيِي: ہم زندہ رکھیں گے (یعنی قتل نہیں کریں گے، انہیں زندہ چھوڑ دیں گے
  • قَاهِرُونَ: غالب، زبردست، قابو رکھنے والے۔

تفسیر:

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے سامنے حق کا پیغام پیش کیا اور معجزات دکھائے تو فرعون کے سرداروں اور عمائدین نے اسے بھڑکاتے ہوئے کہا: "اے فرعون! کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم (بنی اسرائیل) کو یوں ہی چھوڑ دو گے؟ وہ زمین میں فساد پھیلائیں گے، لوگوں کو تمہاری اطاعت سے باغی کریں گے، تمہارے دین کو بدلیں گے، اور تمہیں اور تمہارے معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دیں گے۔ کیا تم اس کی اجازت دو گے؟"

یہ سردار دراصل فرعون کو اس کے ظلم و جبر پر اکسا رہے تھے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ فرعون کا دل موسیٰ علیہ السلام کی دعوت سے خوفزدہ ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ فرعون سختی سے کام لے تاکہ یہ تحریک دب جائے۔

اس پر فرعون نے اپنے پرانے شیطانی منصوبے کے مطابق جواب دیا: "ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے تاکہ وہ ہماری خدمت کریں۔ ہم ان پر مکمل غلبہ رکھتے ہیں، ہماری طاقت اور سلطنت ان پر چھائی ہوئی ہے، وہ ہمارے بس میں ہیں۔"

یہ وہی ظالمانہ حکمتِ عملی تھی جو فرعون پہلے بھی استعمال کر چکا تھا، لیکن وہ بھول گیا کہ اللہ کی قدرت اس کے مکر و فریب سے بالاتر ہے۔ فرعون کا یہ خیال کہ وہ بنی اسرائیل کو قتل عام کرکے یا انہیں ذلیل کرکے اللہ کے دین کو روک سکتا ہے، سراسر نادانی تھی۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت خود کرتا ہے، چاہے ظالم کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ حق کے دشمن جب بھی کمزور پڑتے ہیں تو وہ طاقت اور ظلم کا سہارا لیتے ہیں، لیکن اللہ پر بھروسہ رکھنے والوں کو کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ فرعون نے جتنا بھی ظلم کیا، آخرکار وہ خود غرق ہوا اور موسیٰ علیہ السلام کی قوم نجات پائی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے مخلص بندوں کی مدد کرتا ہے، چاہے مخالفین کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حق پر قائم رہیں، ظالموں کی دھمکیوں سے نہ ڈریں، اور یقین رکھیں کہ اللہ کی نصرت ضرور آئے گی۔ ظلم کی عمارت کتنی ہی اونچی کیوں نہ ہو، آخرکار ڈھیر ہو کر رہتی ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 125-129 — اعراف

125قَالُوا إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ
وہ بولے کہ ہم تو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
126وَمَا تَنقِمُ مِنَّا إِلَّا أَنْ آمَنَّا بِآيَاتِ رَبِّنَا لَمَّا جَاءَتْنَا ۚ رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَتَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ
اور اس کے سوا تجھ کو ہماری کون سی بات بری لگی ہے کہ جب ہمارے پروردگار کی نشانیاں ہمارے پاس آگئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے۔ اے پروردگار ہم پر صبرواستقامت کے دہانے کھول دے اور ہمیں (ماریو تو) مسلمان ہی ماریو
127وَقَالَ الْمَلَأُ مِن قَوْمِ فِرْعَوْنَ أَتَذَرُ مُوسَىٰ وَقَوْمَهُ لِيُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ ۚ قَالَ سَنُقَتِّلُ أَبْنَاءَهُمْ وَنَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ وَإِنَّا فَوْقَهُمْ قَاهِرُونَ
اور قومِ فرعون میں جو سردار تھے کہنے لگے کہ کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دیجیے گا کہ ملک میں خرابی کریں اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں۔ وہ بولے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کرڈالیں گے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیں گے اور بےشک ہم ان پر غالب ہیں
128قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللَّهِ وَاصْبِرُوا ۖ إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ
موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا سے مدد مانگو اور ثابت قدم رہو۔ زمین تو خدا کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا مالک بناتا ہے۔ اور آخر بھلا تو ڈرنے والوں کا ہے
129قَالُوا أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ
وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم کو اذیتیں پہنچتی رہیں اور آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کی جگہ تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
127آیت

ترجمہ — اعراف 127

سورہ اعراف آیت 127 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور قومِ فرعون میں جو سردار تھے کہنے لگے کہ…

سورہ آیت 127/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 125–129. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں