Mishary Rashid Alafasy
✓
Mahmoud Khalil Al-Husary
✓
Abdurrahman As-Sudais
✓
Mohamed Siddiq Al-Minshawi
✓
Abdul Basit Abdul Samad
✓
Ali Al-Hudhaify
✓
Ahmed ibn Ali al-Ajamy
✓
Abu Bakr Ash-Shaatree
✓
Muhammad Ayyoub
✓
Abdullah Basfar
✓
Abdullah Al-Juhani
✓
Maher Al Muaiqly
✓
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أُوذِينَا: ہمیں ایذا دی گئی، تکلیف پہنچائی گئی۔
- یَسْتَخْلِفَكُمْ: تمہیں جانشین بنائے، تمہیں زمین میں اقتدار دے۔
- فَيَنظُرَ: پھر وہ دیکھے، یعنی تمہارے عمل کا مشاہدہ کرے۔
تفسیر:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم (بنی اسرائیل) کو فرعون کے ظلم سے نجات کی خوشخبری دی اور انہیں صبر و استقامت کی تلقین کی، تو قوم کے لوگوں نے بے صبری اور شکایت کے انداز میں کہا: "اے موسیٰ! ہم تو پہلے بھی ستائے گئے، اس سے پہلے کہ آپ تشریف لاتے، اور اب آپ کے آنے کے بعد بھی ہم اسی طرح ایذا و تکلیف میں مبتلا ہیں۔" ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ فرعون ہمارے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتا تھا، اور یہ ظلم آپ کی آمد سے پہلے بھی جاری تھا اور اب بھی جاری ہے۔
اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں تسلی دیتے ہوئے اور امید دلائی: "عنقریب تمہارا رب تمہارے دشمن (فرعون) کو ہلاک کر دے گا اور تمہیں زمین میں اس کا جانشین بنا دے گا، پھر وہ دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔" یعنی یہ آزمائش کا وقت ہے، صبر کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو ہمیشہ تنگی میں نہیں رکھتا۔ فرعون کی سلطنت ختم ہوگی اور تم اس سرزمین کے وارث بنو گے، لیکن اس کے بعد تمہارا امتحان ہوگا کہ تم شکر گزار بنتے ہو یا ناشکری کرتے ہو، اطاعت کرتے ہو یا معصیت۔
یہ وعدہ اللہ تعالیٰ نے پورا کیا، فرعون کو دریا میں غرق کیا اور بنی اسرائیل کو مصر کی زمین کا مالک بنایا، لیکن افسوس کہ انہوں نے ناشکری کی اور گوسالہ پرستی کا ارتکاب کیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ مصیبت اور تکلیف کے وقت صبر اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہمیشہ آزمائش میں نہیں رکھتا۔ دوسرے یہ کہ مومن کو ہمیشہ امید رکھنی چاہیے کہ اللہ کی مدد ضرور آئے گی، چاہے حالات کتنے ہی سخت ہوں۔ تیسرے یہ کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو عزت اور اقتدار دیتا ہے تو وہ اسے آزماتا ہے کہ وہ اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے یا نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کی نعمتوں کو پہچانیں اور ان کا صحیح استعمال کریں، اور ہر حال میں اللہ کی اطاعت کو اپنا شعار بنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صبر اور شکر کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 127-131 — سورہ اعراف
ترجمہ — اعراف 129
سورہ اعراف آیت 129 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم کو…سورہ آیت 129/206 — سورہ اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ اعراف سنیں, سورہ اعراف ترجمہ, سورہ اعراف mp3, سورہ اعراف pdf. آیت 127–131. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Monday, September 28, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں


