Qaaloo oozeenaa min qabli an taatiyanaa wa mim ba`di maa ji`tanaa; qaala `asaa Rabbukum ai yuhlika `aduwwakum wa yastakhli fakum fil ardi fayanzura kaifa ta`maloon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم کو اذیتیں پہنچتی رہیں اور آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کی جگہ تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
گفتند: پيش از آنكه تو بيايى در رنج بوديم و پس از آنكه آمدى باز در رنجيم. گفت: اميد است كه پروردگارتان دشمنتان را هلاك كند و شما را در روى زمين جانشين او گرداند. آنگاه بنگرد كه چه مىكنيد.
وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم کو اذیتیں پہنچتی رہیں اور آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کی جگہ تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أُوذِينَا: ہمیں ایذا دی گئی، تکلیف پہنچائی گئی۔
یَسْتَخْلِفَكُمْ: تمہیں جانشین بنائے، تمہیں زمین میں اقتدار دے۔
فَيَنظُرَ: پھر وہ دیکھے، یعنی تمہارے عمل کا مشاہدہ کرے۔
تفسیر:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم (بنی اسرائیل) کو فرعون کے ظلم سے نجات کی خوشخبری دی اور انہیں صبر و استقامت کی تلقین کی، تو قوم کے لوگوں نے بے صبری اور شکایت کے انداز میں کہا: "اے موسیٰ! ہم تو پہلے بھی ستائے گئے، اس سے پہلے کہ آپ تشریف لاتے، اور اب آپ کے آنے کے بعد بھی ہم اسی طرح ایذا و تکلیف میں مبتلا ہیں۔" ان کا اشارہ اس طرف تھا کہ فرعون ہمارے بیٹوں کو ذبح کرتا تھا اور ہماری عورتوں کو زندہ رکھتا تھا، اور یہ ظلم آپ کی آمد سے پہلے بھی جاری تھا اور اب بھی جاری ہے۔
اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں تسلی دیتے ہوئے اور امید دلائی: "عنقریب تمہارا رب تمہارے دشمن (فرعون) کو ہلاک کر دے گا اور تمہیں زمین میں اس کا جانشین بنا دے گا، پھر وہ دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔" یعنی یہ آزمائش کا وقت ہے، صبر کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو ہمیشہ تنگی میں نہیں رکھتا۔ فرعون کی سلطنت ختم ہوگی اور تم اس سرزمین کے وارث بنو گے، لیکن اس کے بعد تمہارا امتحان ہوگا کہ تم شکر گزار بنتے ہو یا ناشکری کرتے ہو، اطاعت کرتے ہو یا معصیت۔
یہ وعدہ اللہ تعالیٰ نے پورا کیا، فرعون کو دریا میں غرق کیا اور بنی اسرائیل کو مصر کی زمین کا مالک بنایا، لیکن افسوس کہ انہوں نے ناشکری کی اور گوسالہ پرستی کا ارتکاب کیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ مصیبت اور تکلیف کے وقت صبر اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہمیشہ آزمائش میں نہیں رکھتا۔ دوسرے یہ کہ مومن کو ہمیشہ امید رکھنی چاہیے کہ اللہ کی مدد ضرور آئے گی، چاہے حالات کتنے ہی سخت ہوں۔ تیسرے یہ کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو عزت اور اقتدار دیتا ہے تو وہ اسے آزماتا ہے کہ وہ اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے یا نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کی نعمتوں کو پہچانیں اور ان کا صحیح استعمال کریں، اور ہر حال میں اللہ کی اطاعت کو اپنا شعار بنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صبر اور شکر کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اور قومِ فرعون میں جو سردار تھے کہنے لگے کہ کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ دیجیے گا کہ ملک میں خرابی کریں اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں۔ وہ بولے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کرڈالیں گے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیں گے اور بےشک ہم ان پر غالب ہیں
موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا سے مدد مانگو اور ثابت قدم رہو۔ زمین تو خدا کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا مالک بناتا ہے۔ اور آخر بھلا تو ڈرنے والوں کا ہے
وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم کو اذیتیں پہنچتی رہیں اور آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کی جگہ تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو
تو جب ان کو آسائش حاصل ہوتی تو کہتے کہ ہم اس کے مستحق ہیں۔ اور اگر سختی پہنچتی تو موسیٰ اور ان کے رفیقوں کی بدشگونی بتاتے۔ دیکھو ان کی بدشگونی خدا کے ہاں مقرر ہے لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔