اعراف · 130/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِينَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ ۝١٣٠
Wa laqad akhaznaaa Aala Fir`awna bis sineena wa naqsim minas samaraati la`allahum yazzakkaroon
📖 اردو ترجمہ
اور ہم نے فرعونیوں کو قحطوں اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • بِالسِّنِینَ: قحط اور خشک سالی کے سال، یعنی وہ سال جن میں بارش نہ ہو اور زمین بنجر پڑ جائے۔
  • نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرَاتِ: پھلوں اور فصلوں میں کمی اور نقصان۔
  • لَعَلَّهُمْ یَذَّکَّرُونَ: تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور اپنے کفر و ضلالت سے باز آئیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کی تائید میں فرعون اور اس کی قوم کو آزمائش میں ڈالا۔ ان پر قحط اور خشک سالی کے کئی سال مسلط کیے گئے، اور ان کے پھلوں اور غلوں میں کمی کر دی گئی۔ یہ عذاب اور آزمائش اس لیے تھی کہ شاید وہ غفلت سے بیدار ہوں، اپنے کفر اور سرکشی پر شرمندہ ہوں، اور اللہ کی طرف رجوع کر کے توبہ کریں۔ کیونکہ جب انسان کو تنگی اور مصیبت پہنچتی ہے تو اس کا دل نرم ہو جاتا ہے، اور وہ اپنے رب کو یاد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تنبیہ کی، تاکہ وہ سمجھ جائیں کہ یہ ان کے گناہوں کا نتیجہ ہے، اور وہ اپنے رب کی طرف لوٹ آئیں۔ یہ اللہ کی رحمت اور حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ عذاب سے پہلے انہیں ڈرائے اور متنبہ کرے، تاکہ وہ ہدایت پا سکیں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں اللہ رب العزت کی رحمت اور حکمت کا عظیم نمونہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو فوراً عذاب میں نہیں پکڑتا، بلکہ پہلے تنبیہ اور آزمائش کے ذریعے انہیں راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ہمارے لیے بھی ایک سبق ہے کہ جب ہم پر کوئی مصیبت یا تنگی آئے تو ہمیں فوراً اپنے گناہوں کی طرف توجہ کرنی چاہیے، اور اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ یہ آزمائشیں ہمارے لیے رحمت بن سکتی ہیں اگر ہم ان سے سبق حاصل کریں، ورنہ یہی چیزیں ہمارے لیے وبال بن جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ہر حال میں اپنے رب کو یاد رکھیں، اور اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ آمین۔



📜 آیت 128-132 — اعراف

128قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ اسْتَعِينُوا بِاللَّهِ وَاصْبِرُوا ۖ إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ ۖ وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ
موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا سے مدد مانگو اور ثابت قدم رہو۔ زمین تو خدا کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا مالک بناتا ہے۔ اور آخر بھلا تو ڈرنے والوں کا ہے
129قَالُوا أُوذِينَا مِن قَبْلِ أَن تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۚ قَالَ عَسَىٰ رَبُّكُمْ أَن يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ
وہ بولے کہ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم کو اذیتیں پہنچتی رہیں اور آنے کے بعد بھی۔ موسیٰ نے کہا کہ قریب ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کی جگہ تمہیں زمین میں خلیفہ بنائے پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو
130وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِينَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ
اور ہم نے فرعونیوں کو قحطوں اور میووں کے نقصان میں پکڑا تاکہ نصیحت حاصل کریں
131فَإِذَا جَاءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوا لَنَا هَٰذِهِ ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَطَّيَّرُوا بِمُوسَىٰ وَمَن مَّعَهُ ۗ أَلَا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِندَ اللَّهِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
تو جب ان کو آسائش حاصل ہوتی تو کہتے کہ ہم اس کے مستحق ہیں۔ اور اگر سختی پہنچتی تو موسیٰ اور ان کے رفیقوں کی بدشگونی بتاتے۔ دیکھو ان کی بدشگونی خدا کے ہاں مقرر ہے لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے
132وَقَالُوا مَهْمَا تَأْتِنَا بِهِ مِنْ آيَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِينَ
اور کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس (خواہ) کوئی ہی نشانی لاؤ تاکہ اس سے ہم پر جادو کرو۔ مگر ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
130آیت

ترجمہ — اعراف 130

سورہ اعراف آیت 130 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم نے فرعونیوں کو قحطوں اور میووں کے نقصان…

سورہ آیت 130/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 128–132. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Wednesday, August 19, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں