اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ یہ جیسے عمل کرتے ہیں ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
حَبِطَتْ: بیکار اور ضائع ہوگئیں، ایسے اعمال جن کا کوئی ثمر نہ ہو۔
آیاتِنَا: ہماری نشانیاں، دلائل اور معجزات۔
لِقَاءِ الْآخِرَةِ: آخرت کی ملاقات یعنی قیامت کے دن اللہ کے سامنے پیش ہونے کا یقین۔
تفسیرِ آیہ:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان لوگوں کا انجام بیان فرما رہے ہیں جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور آخرت کی ملاقات کا انکار کیا۔ ایسے لوگوں کے تمام اعمال اکارت ہو جاتے ہیں، چاہے وہ ظاہری طور پر نیک ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اعمال کی قبولیت کے لیے ایمان شرط ہے، اور جب ایمان ہی نہ ہو تو کوئی عمل بارگاہِ الٰہی میں مقبول نہیں ہو سکتا۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہیں صرف انہی کے اعمال کا بدلہ نہیں دیا جائے گا؟ یعنی جو کچھ انہوں نے دنیا میں کیا، اس کا پورا پورا بدلہ انہیں ملے گا۔ انہوں نے کفر اور شرک کیا، تو ان کا بدلہ جہنم کی ہمیشہ کی آگ ہے۔ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا، تو ان کی سزا یہ ہے کہ ان کے نیک اعمال بھی ضائع کر دیے جائیں گے، کیونکہ وہ ایمان کی بنیاد پر نہیں تھے۔
یہ آیت ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہم اپنے اعمال کو صرف دنیا کی خاطر نہ کریں، بلکہ اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کے لیے کریں۔ ایمان ہی وہ بنیاد ہے جس پر نیک اعمال کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ جس شخص کے پاس ایمان نہیں، اس کی ساری محنتیں اور کوششیں رائیگاں جائیں گی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ایمان کی دولت حاصل کریں اور اپنے اعمال کو خالص اللہ کے لیے بنائیں، تاکہ ہم اس دن کامیاب ہوں جب ہر شخص اپنے اعمال کا بدلہ پائے گا۔ آمین۔
اور ہم نے (تورات) کی تختیوں میں ان کے لیے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی پھر (ارشاد فرمایا کہ) اسے زور سے پکڑے رہو اور اپنی قوم سے بھی کہہ دو کہ ان باتوں کو جو اس میں (مندرج ہیں اور) بہت بہتر ہیں پکڑے رہیں۔ میں عنقریب تم کو نافرمان لوگوں کا گھر دکھاؤں گا
جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں ان کو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔ اگر یہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں اور اگر راستی کا رستہ دیکھیں تو اسے (اپنا) رستہ نہ بنائیں۔ اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے رستہ بنالیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت کرتے رہے
اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آواز نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو راستہ دکھا سکتا ہے۔ اس کو انہوں نے (معبود) بنالیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا
اور جب وہ نادم ہوئے اور دیکھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہوجائیں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔