اعراف · 152/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
إِنَّ الَّذِينَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِينَ ۝١٥٢
Innal lazeenat takhazul `ijla-sa yanaaluhum ghadabum mir Rabbihim wa zillatun fil hayaatid dunyaa; wa kazaalika najzil muftareen
📖 اردو ترجمہ
(خدا نے فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا تھا ان پر پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت (نصیب ہوگی) اور ہم افتراء پردازوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • اتَّخَذُوا الْعِجْلَ: بچھڑے کو معبود بنا لیا۔
  • سَيَنَالُهُمْ: انہیں ضرور پہنچے گا۔
  • غَضَبٌ: شدید غضب اور ناراضگی۔
  • ذِلَّةٌ: رسوائی اور ذلت۔
  • الْمُفْتَرِينَ: جھوٹ باندھنے والے، اللہ پر بہتان تراشنے والے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان لوگوں کے انجام کو بیان فرما رہے ہیں جنہوں نے گوسالہ (بچھڑے) کو اپنا معبود بنا لیا تھا۔ یہ وہ قومِ موسٰی علیہ السلام تھی جو مصر سے نکلنے کے بعد بیابان میں گمراہ ہو کر سامری کے بنائے ہوئے بچھڑے کی پوجا کرنے لگی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان ظالموں کو ان کے رب کی طرف سے سخت غضب ضرور پہنچے گا، اور دنیا کی اس زندگی میں انہیں ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ غضب اور ذلت صرف اس وقت تک محدود نہیں تھی، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں توبہ کا حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو قتل کریں، اور یہ ان کے لیے انتہائی سخت آزمائش تھی۔ نیز انہیں اپنے گھروں سے نکلنا پڑا، کیونکہ غربت اور وطن سے دوری میں بھی ذلت ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اور اس کی نافرمانی پر اڑے رہے۔

پھر اللہ تعالیٰ عام اصول بیان فرماتے ہیں کہ ہم اسی طرح ان لوگوں کو سزا دیتے ہیں جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں، دین میں بدعتیں ایجاد کرتے ہیں، اور اللہ کے بارے میں غلط عقیدے رکھتے ہیں۔ ہر وہ شخص جو دین میں نئی بات گھڑتا ہے یا اللہ پر بہتان تراشتا ہے، اسے ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ شرک اور بدعت سے سخت نفرت کرتے ہیں۔ جس طرح بنی اسرائیل نے بچھڑے کی پوجا کر کے ذلت اٹھائی، اسی طرح آج جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتے ہیں یا دین میں نئی چیزیں ایجاد کرتے ہیں، انہیں بھی آخرت میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن اور سنت کے ذریعے سیدھا راستہ دکھایا ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم خالص توحید پر قائم رہیں، بدعات سے بچیں، اور اپنے ایمان کو ہر قسم کے شرک سے پاک رکھیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کو عزت دیتا ہے اور انہیں کبھی ذلیل نہیں کرتا۔ آئیے ہم اپنے دین کو خالص رکھیں اور اللہ کی رحمت اور عزت کے حقدار بنیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 150-154 — اعراف

150وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَىٰ إِلَىٰ قَوْمِهِ غَضْبَانَ أَسِفًا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِي مِن بَعْدِي ۖ أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ ۖ وَأَلْقَى الْأَلْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُ إِلَيْهِ ۚ قَالَ ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَكَادُوا يَقْتُلُونَنِي فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْأَعْدَاءَ وَلَا تَجْعَلْنِي مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
اور جب موسیٰ اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے۔ تو کہنے لگے کہ تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کا حکم (یعنی میرا اپنے پاس آنا) جلد چاہا (یہ کہا) اور (شدت غضب سے تورات کی) تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی جان لوگ تو مجھے کمزور سمجھتے تھے اور قریب تھا کہ قتل کردیں۔ تو ایسا کام نہ کیجیے کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملایئے
151قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِأَخِي وَأَدْخِلْنَا فِي رَحْمَتِكَ ۖ وَأَنتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ
تب انہوں نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرما اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے
152إِنَّ الَّذِينَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِينَ
(خدا نے فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا تھا ان پر پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت (نصیب ہوگی) اور ہم افتراء پردازوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں
153وَالَّذِينَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ ثُمَّ تَابُوا مِن بَعْدِهَا وَآمَنُوا إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ
اور جنہوں نے برے کام کیے پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار اس کے بعد (بخش دے گا کہ وہ) بخشنے والا مہربان ہے
154وَلَمَّا سَكَتَ عَن مُّوسَى الْغَضَبُ أَخَذَ الْأَلْوَاحَ ۖ وَفِي نُسْخَتِهَا هُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِينَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَرْهَبُونَ
اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو (تورات) کی تختیاں اٹھالیں اور جو کچھ ان میں لکھا تھا وہ ان لوگوں کے لیے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں۔ ہدایت اور رحمت تھی
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
152آیت

ترجمہ — اعراف 152

سورہ اعراف آیت 152 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (خدا نے فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود)…

سورہ آیت 152/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 150–154. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں