اعراف · 44/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
وَنَادَىٰ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۖ قَالُوا نَعَمْ ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَن لَّعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ ۝٤٤
Wa naadaa Ashaabul jannati ashaaban Naari an qad wajadnaa maa wa`adannaa Rabbunaa haqqan fahal wajattum maa wa`ada Rabbukum haqqan qaaloo na`am; fa azzana mu`azzinum bainahum al la`natul laahi `alaz zaalimeen
📖 اردو ترجمہ
اور اہل بہشت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے کہ جو وعدہ ہمارے پروردگار نے ہم سے کیا تھا ہم نے تو اسے سچا پالیا۔ بھلا جو وعدہ تمہارے پروردگار نے تم سے کیا تھا تم نے بھی اسے سچا پایا؟ وہ کہیں گے ہاں تو (اس وقت) ان میں ایک پکارنے والا پکارے گا کہ بےانصافوں پر خدا کی لعنت

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • نادیٰ: پکارا، آواز دی۔
  • أذّن مؤذّن: ایک منادی نے اعلان کیا۔
  • لعنة الله: اللہ کی رحمت سے دوری اور پھٹکار۔

تفسیر آیت:

یہ منظر قیامت کا ایک انتہائی عبرتناک اور سچا واقعہ ہے جب جنتی اور دوزخی دونوں اپنے اپنے ٹھکانوں میں داخل ہو چکے ہوں گے۔ اس وقت اہل جنت، اہل دوزخ کو پکاریں گے اور کہیں گے: "ہم نے واقعی وہ سب کچھ پا لیا جو ہمارے رب نے ہم سے وعدہ کیا تھا — یعنی جنت کی نعمتیں، اطمینان اور اللہ کی رضا۔ کیا تم نے بھی وہ سب کچھ پا لیا جو تمہارے رب نے تم سے وعدہ کیا تھا — یعنی عذاب، رسوائی اور جہنم کی آگ؟" اس پر دوزخی جواب دیں گے: "ہاں، بے شک ہم نے وہ سب کچھ پا لیا جو ہمارے رب نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔" یہ اعتراف ان کے لیے انتہائی ذلت اور حسرت کا باعث ہوگا، کیونکہ وہ اپنی آنکھوں سے سچائی کو دیکھ لیں گے مگر پھر بھی ان کے لیے کوئی راہ نجات نہ ہوگی۔

اس کے بعد ایک منادی دونوں گروہوں کے درمیان اعلان کرے گا: "اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر۔" یہ وہ ظالم ہیں جنہوں نے اللہ کی حدود سے تجاوز کیا، اس کی آیات کو جھٹلایا، اپنے نفس پر ظلم کیا اور دوسروں کو راہ راست سے روکا۔ انہوں نے دنیا میں اللہ کی رحمت کے دروازے کھلے دیکھے مگر اپنے کفر اور سرکشی کی وجہ سے ان سے منہ موڑ لیا، اس لیے آج وہ رحمت سے محروم اور لعنت کے مستحق ہیں۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمارے لیے بہت بڑی نصیحت ہے کہ اللہ کا وعدہ ہمیشہ سچا اور برحق ہے۔ جس طرح اہل جنت کو ان کا اجر ملا، اسی طرح اہل دوزخ کو ان کا عذاب ملے گا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم دنیا میں اللہ کے احکامات پر عمل کریں، اپنے ظلم و زیادتی سے بچیں، اور اللہ کی رحمت کے دروازوں سے فائدہ اٹھائیں۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ آخرت کا یقین رکھیں اور اس دن کے لیے تیاری کریں جب ہر شخص اپنے اعمال کا نتیجہ دیکھے گا۔ اللہ ہمیں ظالموں میں سے نہ بنائے اور ہمیں جنت کی راہ دکھائے۔ آمین۔



📜 آیت 42-46 — اعراف

42وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ہم (عملوں کے لیے) کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ایسے ہی لوگ اہل بہشت ہیں (کہ) اس میں ہمیشہ رہیں گے
43وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ ۖ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّهُ ۖ لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ ۖ وَنُودُوا أَن تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
اور جو کینے ان کے دلوں میں ہوں گے ہم سب نکال ڈالیں گے۔ ان کے محلوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور کہیں گے کہ خدا کا شکر ہے جس نے ہم کو یہاں کا راستہ دکھایا اور اگر خدا ہم کو رستہ نہ دکھاتا تو ہم رستہ نہ پا سکتے۔ بےشک ہمارا پروردگار کے رسول حق بات لے کر آئے تھے اور (اس روز) منادی کر دی جائے گی کہ تم ان اعمال کے صلے میں جو دنیا میں کرتے تھے اس بہشت کے وارث بنا دیئے گئے ہو
44وَنَادَىٰ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ أَصْحَابَ النَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۖ قَالُوا نَعَمْ ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَيْنَهُمْ أَن لَّعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ
اور اہل بہشت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے کہ جو وعدہ ہمارے پروردگار نے ہم سے کیا تھا ہم نے تو اسے سچا پالیا۔ بھلا جو وعدہ تمہارے پروردگار نے تم سے کیا تھا تم نے بھی اسے سچا پایا؟ وہ کہیں گے ہاں تو (اس وقت) ان میں ایک پکارنے والا پکارے گا کہ بےانصافوں پر خدا کی لعنت
45الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا وَهُم بِالْآخِرَةِ كَافِرُونَ
جو خدا کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے اور آخرت سے انکار کرتے تھے
46وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَى الْأَعْرَافِ رِجَالٌ يَعْرِفُونَ كُلًّا بِسِيمَاهُمْ ۚ وَنَادَوْا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ أَن سَلَامٌ عَلَيْكُمْ ۚ لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ
ان دونوں (یعنی بہشت اور دوزخ) کے درمیان (اعراف نام) ایک دیوار ہو گی اور اعراف پر کچھ آدمی ہوں گے جو سب کو ان کی صورتوں سے پہچان لیں گے۔ تو وہ اہل بہشت کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ لوگ بھی بہشت میں داخل تو نہیں ہوں گے مگر امید رکھتے ہوں گے
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
44آیت

ترجمہ — اعراف 44

سورہ اعراف آیت 44 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اہل بہشت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے کہ…

سورہ آیت 44/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 42–46. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں