ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- یَعُوذُونَ: پناہ مانگتے تھے، پناہ لیتے تھے۔
- رَهَقًا: خوف، دہشت، طغیان، گناہ اور تکلیف۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جاہلیت کے دور کے ایک عام اور برے عمل کا ذکر فرمایا ہے۔ اس دور میں لوگ سفر پر نکلتے تھے اور جب کسی ویران اور خوفناک جگہ پہنچتے تھے، تو وہ جنوں کے سرداروں اور بڑوں سے پناہ مانگتے تھے۔ وہ کہتے تھے: "میں اس وادی کے سردار کی پناہ میں آتا ہوں اس کے قوم کے بیوقوفوں کے شر سے۔" اس طرح وہ جنوں کو اپنا محافظ اور مددگار سمجھتے تھے، حالانکہ حقیقت میں یہ شرک تھا۔
اس استعاذہ یعنی پناہ مانگنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنوں کا خوف اور دہشت اور بڑھ گئی۔ جنوں کو یہ احساس ہوا کہ انسان ان سے ڈرتے ہیں اور ان کی پناہ چاہتے ہیں، تو ان کا غرور اور تکبر بڑھ گیا، اور وہ انسانوں کو مزید ڈرانے اور ستانے لگے۔ اس طرح انسانوں کی اس غلط عادت نے جنوں کے طغیان اور شرارت میں اضافہ کیا۔
یہ آیت ہمیں ایک اہم سبق سکھاتی ہے کہ پناہ اور مدد صرف اللہ تعالیٰ سے مانگی جائے۔ کسی جن، انسان، یا کسی اور مخلوق سے پناہ مانگنا شرک ہے، جو اللہ تعالیٰ کی نظر میں بہت بڑا گناہ ہے۔ آج بھی بہت سے لوگ عمروں، عاملوں، اور جادوگروں کے پاس جاتے ہیں اور ان سے حفاظت اور مدد مانگتے ہیں، یہ سب اسی جاہلیت کی یاد دلاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توحید پر قائم رہنے کی توفیق دے اور ہمیں شرک کے تمام راستوں سے بچائے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب کوئی مشکل آئے، تو سب سے پہلے اللہ کی طرف رجوع کریں، کیونکہ وہی حقیقی محافظ اور مددگار ہے۔ اس کی پناہ سب سے مضبوط اور سب سے بہتر ہے۔ آمین۔
📜 آیت 4-8 — جن
ترجمہ — جن 6
سورہ آیت 6/28 — جن الجن (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: جن سنیں, جن ترجمہ, جن mp3, جن pdf. آیت 4–8. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








