ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لَا أُقْسِمُ: یہاں "لَا" زائدہ ہے، قسم کو تاکید کے لیے لایا گیا ہے۔ مطلب ہے "میں قسم کھاتا ہوں"۔
- النَّفْسِ اللَّوَّامَةِ: وہ نفس (روح) جو اپنے مالک کو برائیوں پر ملامت کرتی ہے اور نیکیوں میں کوتاہی پر ڈانٹتی ہے۔ یہ مومن کی نفس ہے جو ہمیشہ اسے راہِ راست پر لانے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں قیامت کے دن اور حساب و جزا کی قسم کھائی ہے، اور ساتھ ہی اس نفسِ لوّامہ کی قسم بھی کھائی ہے جو انسان کے اندر موجود ضمیرِ زندہ کی علامت ہے۔ یہ وہ نفس ہے جو نیکی چھوڑنے پر اور برائی کرنے پر انسان کو ملامت کرتا ہے، اسے ڈانٹتا ہے اور اسے متنبہ کرتا ہے کہ تو نے یہ غلط کیا، تو نے یہ کوتاہی کی۔ یہ نفس دراصل ایمان کی نشانی ہے، کیونکہ جو شخص ایمان رکھتا ہے، اس کا ضمیر زندہ ہوتا ہے اور وہ اپنی غلطیوں پر شرمندہ ہوتا ہے، پشیمان ہوتا ہے اور توبہ کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس قسم کے ذریعے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ قیامت کا آنا یقینی ہے، اور تمام لوگ دوبارہ زندہ کر کے حساب کے لیے کھڑے کیے جائیں گے۔ یہ کوئی ناممکن بات نہیں، کیونکہ جس اللہ نے پہلی بار انسان کو پیدا کیا، وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر یقیناً قادر ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہم اپنے اندر اس نفسِ لوّامہ کو زندہ رکھیں۔ جب بھی کوئی غلطی ہو جائے، تو فوراً دل میں ملامت محسوس کریں، اللہ سے توبہ کریں اور آئندہ کے لیے اصلاح کا عزم کریں۔ یہی وہ چیز ہے جو انسان کو ترقی دیتی ہے اور اسے اللہ کے قریب کرتی ہے۔ یاد رکھیں، جو شخص اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے، وہ کبھی برائی پر قائم نہیں رہتا، بلکہ ہر بار بہتر بننے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو جنت کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نفس کو سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 1-4 — قیامت
ترجمہ — قیامت 2
سورہ آیت 2/40 — قیامت القيامة (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قیامت سنیں, قیامت ترجمہ, قیامت mp3, قیامت pdf. آیت 1–4. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








