ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- اذْهَبْ: جاؤ، روانہ ہوں۔
- فِرْعَوْنَ: مصر کے بادشاہ کا لقب، جو اپنی سرکشی اور ظلم کی وجہ سے مشہور تھا۔
- طَغَىٰ: حد سے تجاوز کرنا، سرکشی اور نافرمانی میں حد سے بڑھ جانا۔
تفسیر:
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مقدس وادی طویٰ میں اپنی رسالت کے لیے منتخب فرمایا اور انہیں عظیم معجزات عطا کیے، تو انہیں حکم دیا گیا کہ وہ فرعون کے پاس جائیں۔ فرعون اپنی سرکشی اور تکبر میں حد سے بڑھ چکا تھا، اس نے خود کو خدا ہونے کا دعویٰ کر رکھا تھا اور بنی اسرائیل پر انتہائی ظلم و ستم ڈھا رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو اس کی طرف بھیجنے کا حکم دیا تاکہ وہ اسے راہ راست پر لائیں اور اسے اپنے رب کی اطاعت کی دعوت دیں۔
یہ حکم اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، چاہے وہ کتنے ہی گنہگار ہوں۔ فرعون جیسا ظالم اور سرکش بادشاہ بھی اس دعوت سے محروم نہیں رہا، بلکہ اللہ نے اس کی ہدایت کے لیے اپنا برگزیدہ نبی بھیجا۔ یہ ہمارے لیے بھی ایک بہترین سبق ہے کہ ہمیں کبھی کسی کی ہدایت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، اور جس طرح اللہ نے فرعون کو دعوت دی، ہمیں بھی اپنے معاشرے کے لوگوں کو نرمی اور حکمت کے ساتھ اللہ کی طرف بلانا چاہیے۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ دعوت دینے والے کو اپنے مخاطب کے حالات کا لحاظ رکھنا چاہیے، اور اگر کوئی شخص اپنی سرکشی میں حد سے بڑھ گیا ہو تو اسے نرمی اور محبت کے ساتھ سمجھانا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے نبی کو حکم دیا کہ فرعون سے نرمی سے بات کریں، جیسا کہ آگے کی آیات میں آئے گا۔ یہ دعوت دینے والوں کے لیے ایک عظیم رہنما اصول ہے۔
📜 آیت 15-19 — نازعات
ترجمہ — نازعات 17
سورہ آیت 17/46 — نازعات النازعات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نازعات سنیں, نازعات ترجمہ, نازعات mp3, نازعات pdf. آیت 15–19. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








