ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تَرْجُفُ: کانپنا، لرزنا، زلزلہ آنا۔
- الرَّاجِفَةُ: کانپنے والی (چیز)، اس سے مراد پہلی صور پھونکی جانا ہے۔
تفسیرِ آیہ:
یہ وہ دن ہے جب پہلی صور پھونکی جائے گی، جس سے ساری کائنات کانپ اٹھے گی، زمین و آسمان زلزلے کا شکار ہوں گے، اور ہر چیز اپنی جگہ سے ہل جائے گی۔ یہ وہ ہولناک صور ہے جو قیامت کے آغاز کا اعلان ہوگی، جس کی شدت سے تمام مخلوقات بیہوش ہو کر گر پڑیں گی اور موت واقع ہو جائے گی۔ اس نفخہ کو "راجفہ" اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ ہر چیز کو کانپا دینے والی ہے، کوئی بھی چیز اس کی ہیبت سے محفوظ نہ ہوگی۔
یہ منظر قیامت کی عظمت اور ہولناکی کو ظاہر کرتا ہے، تاکہ انسان غفلت سے بیدار ہو اور آخرت کے لیے تیاری کرے۔ جب یہ دن آئے گا تو ہر شخص اپنے اعمال کے ساتھ حاضر ہوگا، اور اللہ رب العزت کی عدالت میں ہر ایک سے حساب لیا جائے گا۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں غفلت کی نیند سے جگانے کے لیے ہے۔ ہم اکثر دنیا کی مشغولیات میں اتنے ڈوب جاتے ہیں کہ اس عظیم دن کو بھول جاتے ہیں، حالانکہ یہ دن یقینی طور پر آنے والا ہے۔ جس دن زمین کانپے گی، ہر شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوگا۔ آج ہم اللہ کی رحمت سے نوازے گئے ہیں، ہمارے پاس توبہ کا موقع ہے، دعا کا موقع ہے، نیک اعمال کا موقع ہے۔ آئیے ہم اس دن کی تیاری کریں، اپنے اعمال سنواریں، اللہ کی اطاعت کریں، اور اس کی رحمت کے طلب گار بنیں۔ یاد رکھیں، اللہ کی رحمت اس کے عذاب سے کہیں زیادہ وسیع ہے، لیکن ہمیں خود بھی اس کی طرف قدم بڑھانا ہوگا۔ اللہ ہمیں اس ہولناک دن کے عذاب سے بچائے اور اپنی رحمت کے سایے میں جگہ دے۔ آمین۔
📜 آیت 4-8 — نازعات
ترجمہ — نازعات 6
سورہ نازعات آیت 6 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (کہ وہ دن آ کر رہے گا) جس دن زمین…سورہ آیت 6/46 — نازعات النازعات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نازعات سنیں, نازعات ترجمہ, نازعات mp3, نازعات pdf. آیت 4–8. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








