ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- کَلَّا: ہرگز نہیں، قطعاً ایسا نہیں ہے۔ یہ ردّ اور انکار کے لیے ہے۔
- الْإِنسَانَ: انسان، یہاں خاص طور پر وہ شخص مراد ہے جو سرکشی اور نافرمانی میں حد سے گزر جائے، جیسے ابوجہل۔
- لَيَطْغَى: طغیان کرتا ہے، یعنی حد سے تجاوز کرتا ہے، سرکشی اور تکبر کرتا ہے۔
تفسیر:
حق تعالیٰ اس آیت میں انسان کی اس کمزوری اور خامی کو بیان فرما رہے ہیں کہ جب انسان کو دولت اور مالداری ملتی ہے، اور وہ اپنے آپ کو بےنیاز اور طاقتور سمجھنے لگتا ہے، تو وہ اپنی اصل حیثیت بھول جاتا ہے اور اللہ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرنے لگتا ہے۔ وہ اپنے رب کے احکام کو ماننے سے انکار کرتا ہے، اپنے سے کمزور لوگوں پر ظلم کرتا ہے، اور اپنے آپ کو کسی کے آگے جھکنے کے قابل نہیں سمجھتا۔
یہ طغیان اور سرکشی اس وقت عروج پر پہنچتی ہے جب انسان کو دنیاوی نعمتیں مل جاتی ہیں اور وہ اپنے مال و دولت، عزت اور مقام پر گھمنڈ کرنے لگتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ابوجہل جیسے لوگ، جنہیں مال و دولت اور قبیلے کی عزت حاصل تھی، وہ حق کو قبول کرنے سے اس لیے انکار کرتے تھے کہ انہیں اپنی بڑائی اور برتری کا غرور تھا۔
یہاں "کَلَّا" کا لفظ اس حقیقت پر زور دیتا ہے کہ یہ طرزِ عمل بالکل غلط اور قابلِ مذمت ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی حقیقت کو یاد رکھے کہ وہ ایک کمزور مخلوق ہے، جو اللہ کی رحمت اور فضل سے ہی کچھ حاصل کر سکتی ہے۔ جب اللہ اسے نعمتیں دیتا ہے تو یہ اس کا امتحان ہوتا ہے، نہ کہ سرکشی اور تکبر کرنے کا موقع۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک اہم سبق سکھاتی ہے کہ دولت اور دنیاوی ترقی انسان کو اللہ سے دور نہ کرے، بلکہ اسے شکرگزار بنائے۔ جب ہمیں اللہ کی طرف سے نعمتیں ملیں تو ہمیں چاہیے کہ ہم مزید عاجزی اور فروتنی اختیار کریں، نہ کہ غرور اور تکبر۔ یاد رکھیں! یہ دنیا کی دولت عارضی ہے، اور آخرت میں ہر انسان کو اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں طغیان اور سرکشی سے بچائے اور ہمیں شکر گزار بندے بنائے۔ آمین۔
📜 آیت 4-8 — علق
ترجمہ — علق 6
سورہ علق آیت 6 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : مگر انسان سرکش ہو جاتا ہےسورہ آیت 6/19 — علق العلق (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: علق سنیں, علق ترجمہ, علق mp3, علق pdf. آیت 4–8. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








