ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَن رَّآهُ اسْتَغْنَىٰ: یعنی اس نے اپنے آپ کو مالدار اور بے نیاز دیکھا، اپنے پاس موجود مال و دولت اور جاہ و منصب کو باعثِ استغنا سمجھا۔
تفسیر:
اس آیت میں انسان کے اس اخلاقی عیب کی نشاندہی کی گئی ہے کہ جب وہ دولت اور دنیاوی وسائل سے مالامال ہو جاتا ہے تو وہ سرکش بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے تجاوز کرنے لگتا ہے۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز سمجھتا ہے اور یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کسی کی ضرورت نہیں، نہ اللہ کی عبادت کی، نہ اس کے احکام کی پابندی کی۔ یہی وہ غرور اور تکبر ہے جو انسان کو حد سے باہر نکال دیتا ہے۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے انسان کی اس نفسیاتی کمزوری کو بے نقاب کیا ہے کہ مال و دولت کی فراوانی اسے یہ غلط فہمی دیتی ہے کہ وہ خود کفیل ہے اور اسے کسی کی مدد یا رہنمائی کی ضرورت نہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان ہر لمحہ اللہ کا محتاج ہے، چاہے وہ کتنا ہی مالدار کیوں نہ ہو جائے۔
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے مال و دولت پر مغرور نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہر حالت میں اللہ کے سامنے عاجزی اور انکساری اختیار کرنی چاہیے۔ یاد رکھیں کہ یہ دنیاوی دولت ایک آزمائش ہے، اور جو شخص اس آزمائش میں کامیاب ہو جاتا ہے وہی حقیقی کامیاب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مال کی محبت اور غرور سے بچائے اور ہمیں ہمیشہ اپنی عبادت اور اطاعت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 5-9 — علق
ترجمہ — علق 7
سورہ علق آیت 7 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جب کہ اپنے تیئں غنی دیکھتا ہےسورہ آیت 7/19 — علق العلق (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: علق سنیں, علق ترجمہ, علق mp3, علق pdf. آیت 5–9. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








