ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- نَفْقَهُ: ہم سمجھتے ہیں۔
- ضَعِيفًا: کمزور، بے اثر۔
- رَهْطُكَ: آپ کی قوم، آپ کے عزیز و اقارب۔
- لَرَجَمْنَاكَ: ہم آپ کو سنگسار کر دیتے۔
- بِعَزِيزٍ: باعزت، طاقتور، جس کی وجہ سے ہم آپ کا احترام کریں۔
تفسیر:
جب حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو شرک اور بے انصافی سے روکا اور انہیں اللہ کی توحید اور عدل کی دعوت دی، تو ان کی قوم نے سرکشی اور تکبر کے ساتھ جواب دیا۔ انہوں نے کہا: "اے شعیب! ہم تمہاری اکثر باتوں کو نہیں سمجھتے۔" یہ ان کی جہالت اور ہٹ دھرمی کا اظہار تھا، کیونکہ حق بات سمجھنے کے لیے دل کی پاکیزگی اور قبولیت کی نیت ضروری ہے، اور ان کے دلوں پر غرور اور عناد کا پردہ پڑ چکا تھا۔
پھر انہوں نے طعنہ دیا: "ہم تمہیں اپنے درمیان کمزور دیکھتے ہیں۔" یعنی تمہارے پاس دنیاوی طاقت اور جاہ و حشمت نہیں، اس لیے تمہاری بات کا کوئی وزن نہیں۔ یہ ان کی ظاہری نگاہ تھی، ورنہ حقیقت میں حق کا علمبردار سب سے طاقتور ہوتا ہے، چاہے وہ ظاہری اعتبار سے کمزور ہی کیوں نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا: "اگر تمہاری قوم (جو ہمارے مذہب پر ہے) نہ ہوتی تو ہم تمہیں سنگسار کر دیتے۔" یعنی وہ صرف اپنے خاندانی اور قبائلی تعلقات کی وجہ سے انہیں قتل کرنے سے باز رہے، نہ کہ حق کی وجہ سے۔ یہ ان کی ظالمانہ سوچ کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ حق کو ماننے کے بجائے قتل و تشدد کو جائز سمجھتے تھے۔
آخر میں انہوں نے کہا: "اور تم ہمارے نزدیک کوئی عزت والے نہیں ہو۔" یعنی تمہاری شخصیت ہمارے لیے قابل احترام نہیں، ہم تمہیں حقیر سمجھتے ہیں۔ یہ ان کی مکمل سرکشی اور انکارِ حق کی انتہا تھی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ حق کی دعوت دینے والے کو ہمیشہ مخالفت اور طعن و تشنیع کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن اسے صبر اور استقامت کے ساتھ اپنا کام جاری رکھنا چاہیے۔ دوسرے یہ کہ دنیاوی طاقت اور جاہ و حشمت حق کی کسوٹی نہیں ہے، بلکہ حق وہی ہے جو اللہ کے نزدیک حق ہے، چاہے اسے کمزور لوگ ہی کیوں پیش کریں۔ تیسرے یہ کہ قوموں کی اکثریت اکثر حق کو قبول کرنے کے بجائے اپنی روایات اور مفادات کو ترجیح دیتی ہے، لیکن مومن کو اللہ کی رضا کو سب کچھ سمجھنا چاہیے۔
یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو اپنی قوموں سے کس قدر تکلیفیں پہنچیں، پھر بھی انہوں نے صبر اور حکمت سے دعوت جاری رکھی۔ ہمیں بھی اپنے معاشرے میں حق کی دعوت دیتے وقت صبر، حکمت اور نرمی سے کام لینا چاہیے، اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے، کیونکہ اللہ ہی عزت دینے والا اور ذلیل کرنے والا ہے۔ جو لوگ اللہ کے دین کی خدمت کرتے ہیں، اللہ انہیں دنیا اور آخرت میں عزت عطا فرماتا ہے، چاہے لوگ انہیں کمزور ہی کیوں نہ سمجھیں۔
📜 آیت 89-93 — ہود
ترجمہ — ہود 91
سورہ آیت 91/123 — ہود هود (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ہود سنیں, ہود ترجمہ, ہود mp3, ہود pdf. آیت 89–93. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








