Qaala hiya raawadatnee `an nafsee wa shahida shaahidum min ahlihaa in kaana qameesuhoo qudda min qubulin fasadaqat wa huwa minal kaazibeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
یوسف نے کہا اسی نے مجھ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا تو یہ سچی اور یوسف جھوٹا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
يوسف گفت: او در پى كامجويى از من بود و مرا به خود خواند. و يكى از كسان زن گواهى داد كه اگر جامهاش از پيش دريده است زن راست مىگويد و او دروغگوست.
یوسف نے کہا اسی نے مجھ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا تو یہ سچی اور یوسف جھوٹا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
راوَدَتْنی: مجھ سے بری خواہش کی، میرے نفس کو ورغلایا۔
قُدَّ: پھٹا گیا، چاک کیا گیا۔
مِن قُبُل: سامنے کی طرف سے۔
تفسیر:
جب عزیزِ مصر کی بیوی نے یوسف علیہ السلام کو اس سنگین الزام سے دوچار کیا اور انہیں ہلاکت کے خطرے میں ڈال دیا، تو یوسف علیہ السلام نے اپنے اوپر سے اس تہمت کو دور کرنے کے لیے اور اپنی پاکدامنی کو واضح کرنے کے لیے صاف صاف کہہ دیا: "یہ عورت خود تھی جس نے مجھ سے بری خواہش کی اور مجھے اپنی طرف مائل کرنا چاہا، میں نے اسے قبول نہیں کیا اور بھاگ کھڑا ہوا۔" یہ الفاظ ایک نہایت سچے، پاکباز اور پرہیزگار نبی کا دفاع تھا، جو اپنی بےگناہی ثابت کرنے کے لیے کسی خوف یا لالچ کے بغیر حق بیان کر رہے تھے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ایک معجزاتی گواہ کو ظاہر فرمایا۔ اہلِ خانہ میں سے ایک گواہ (جو روایات کے مطابق ایک شیرخوار بچہ تھا جسے اللہ نے بولنے کی طاقت دی) نے فیصلہ کن شہادت دی۔ اس نے کہا: "اگر یوسف کا قمیص سامنے سے پھٹا ہوا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یوسف نے خود اس عورت پر حملہ کیا تھا، اور وہ عورت سچ کہتی ہے، جبکہ یوسف جھوٹا ہے۔" لیکن حقیقت یہ تھی کہ یوسف علیہ السلام بھاگ رہے تھے اور عورت نے انہیں روکنے کے لیے پیچھے سے ان کا قمیص پکڑا، جس کی وجہ سے قمیص پیچھے سے پھٹا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی پاکدامنی کو ثابت کرنے کے لیے ایک بےزبان بچے کو گواہ بنایا، تاکہ حق واضح ہو جائے اور باطل رسوا ہو۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے اور ان کی سچائی کو کبھی چھپا نہیں رہنے دیتا، چاہے حالات کتنے بھی مشکل ہوں۔ یوسف علیہ السلام نے اس آزمائش میں صبر کیا، اللہ پر بھروسہ کیا اور جھوٹ کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہر مشکل میں سچائی کا دامن تھامیں، کیونکہ اللہ سچے لوگوں کے ساتھ ہے اور وہ کبھی انہیں ذلیل نہیں کرتا۔ یہ واقعہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کی حفاظت فرماتا ہے اور ان کے دشمنوں کو رسوا کرتا ہے، جیسا کہ اس موقع پر عورت کا جھوٹ بےنقاب ہوا اور یوسف علیہ السلام کی سچائی اجاگر ہوئی۔
اور اس عورت نے ان کا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا۔ اگر وہ اپنے پروردگار کی نشانی نہ دیکھتے (تو جو ہوتا ہوتا) یوں اس لیے (کیا گیا) کہ ہم ان سے برائی اور بےحیائی کو روک دیں۔ بےشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے
اور دونوں دروازے کی طرف بھاگے (آگے یوسف اور پیچھے زلیخا) اور عورت نے ان کا کرتا پیچھے سے (پکڑ کر جو کھینچا تو) پھاڑ ڈالا اور دونوں کو دروازے کے پاس عورت کا خاوند مل گیا تو عورت بولی کہ جو شخص تمہاری بیوی کے ساتھ برا ارادہ کرے اس کی اس کے سوا کیا سزا ہے کہ یا تو قید کیا جائے یا دکھ کا عذاب دیا جائے
یوسف نے کہا اسی نے مجھ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا۔ اس کے قبیلے میں سے ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کیا کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا تو یہ سچی اور یوسف جھوٹا
اور جب اس کا کرتا دیکھا (تو) پیچھے سے پھٹا تھا (تب اس نے زلیخا سے کہا) کہ یہ تمہارا ہی فریب ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ تم عورتوں کے فریب بڑے (بھاری) ہوتے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔