Maa ta`budoona min doonihee illaaa asmaaa`an sam maitumoohaaa antum wa aabaaa`ukum maaa anzalal laahu bihaa min sultan; inilhukmu illaa lillaah; amara allaa ta`budooo illaaa iyyaah; zaalikad deenul qaiyimu wa laakinna aksaran naasi laa ya`lamoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ خدا نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
نمىپرستيد سواى خداى يكتا، مگر بتانى را كه خود و پدرانتان آنها را به نامهايى خواندهايد و خدا حجتى بر اثبات آنها نازل نكرده است. حكم جز حكم خدا نيست. فرمان داده است كه جز او را نپرستيد. اين است دين راست و استوار، ولى بيشتر مردم نمىدانند.
جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ خدا نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَسْمَاءً: صرف نام، جن کے پیچھے کوئی حقیقت نہ ہو۔
سَمَّيْتُمُوهَا: تم نے انہیں (خود) نام دے رکھے ہیں۔
سُلْطَانٍ: دلیل، برہان، کوئی حجت یا ثبوت۔
الْحُكْمُ: فیصلہ کرنے کا اختیار، حکمرانی۔
الدِّينُ الْقَيِّمُ: سیدھا اور مضبوط دین، وہ راستہ جو بالکل درست اور ثابت ہو۔
تفسیر:
حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں (زندان کے دو قیدیوں) سے فرمایا کہ تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر جن چیزوں کی عبادت کرتے ہو، وہ درحقیقت کچھ نہیں ہیں، محض نام ہیں جو تم نے خود ایجاد کر لیے ہیں اور تمہارے باپ دادا نے بھی انہیں یہی نام دے رکھے تھے۔ ان ناموں کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں، نہ ان میں کوئی طاقت ہے اور نہ ہی وہ کسی کام آ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی عبادت کے لیے کوئی دلیل یا ثبوت نازل نہیں کیا، نہ کوئی کتاب بھیجی اور نہ کوئی رسول۔ یہ سب محض تمہاری اپنی ایجاد اور گمراہی ہے۔
پھر آپ نے فرمایا کہ فیصلہ کرنے کا اختیار صرف اللہ کا ہے، اسی کی حکمرانی ہے، اسی کا حکم چلتا ہے۔ اس نے واضح حکم دیا ہے کہ تم صرف اسی کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نہ کسی بت کو، نہ کسی ستارے کو، نہ کسی انسان کو۔ یہی توحید اللہ کا سیدھا دین ہے، یہی وہ راستہ ہے جو بالکل درست ہے، جس میں کوئی کجی نہیں، جو انسان کو کامیابی تک پہنچاتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے، اسی لیے وہ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں اور اپنی جہالت کی وجہ سے گمراہی میں مبتلا رہتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں صرف اللہ کو حاکم اور فیصلہ کرنے والا مانیں۔ آج بھی بہت سے لوگ اپنی خواہشات، روایات، رسم و رواج اور اپنے بڑوں کی تقلید کو اللہ پر مقدم کر لیتے ہیں، حالانکہ یہ سب وہی "نام" ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔ اللہ کا دین سیدھا اور آسان ہے، وہ چاہتا ہے کہ ہم اسی کی عبادت کریں، اسی سے مدد مانگیں، اسی کے حکم پر چلیں، تو ہماری زندگیاں سنور جائیں گی۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی عطا کرے گا۔ آئیے ہم اس حقیقت کو سمجھیں اور اپنے دلوں کو توحید کی روشنی سے منور کریں۔
اور اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے مذہب پر چلتا ہوں۔ ہمیں شایاں نہیں ہے کہ کسی چیز کو خدا کے ساتھ شریک بنائیں۔ یہ خدا کا فضل ہے ہم پر بھی اور لوگوں پر بھی ہے لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ خدا نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
میرے جیل خانے کے رفیقو! تم میں سے ایک (جو پہلا خواب بیان کرنے والا ہے وہ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور جو دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھا جائیں گے۔ جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے وہ فیصلہ ہوچکا ہے
اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائے گا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے میں رہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔