یوسف · 41/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا ۖ وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ الطَّيْرُ مِن رَّأْسِهِ ۚ قُضِيَ الْأَمْرُ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ ۝٤١
Yaa saahibayis sijni ammaaa ahadukumaa fa yasqee rabbahoo khamranw wa ammal aakharu fa yuslabu fataakulut tairu mir raasih; qudiyal amrul lazee feehi tastaftiyaan
📖 اردو ترجمہ
میرے جیل خانے کے رفیقو! تم میں سے ایک (جو پہلا خواب بیان کرنے والا ہے وہ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور جو دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھا جائیں گے۔ جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے وہ فیصلہ ہوچکا ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • صاحبَی السجن: میرے ساتھ قید میں رہنے والے دو ساتھیو!
  • ربہ: اس کا آقا (بادشاہ)
  • فیصلب: اسے سولی پر چڑھایا جائے گا
  • قضی الامر: فیصلہ صادر ہو چکا ہے، معاملہ طے پا گیا
  • تستفتیان: تم دونوں جس کے بارے میں فتویٰ (تعبیر) پوچھ رہے ہو

تفسیر:

حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے دونوں قیدی ساتھیوں کی خوابوں کی تعبیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: اے میرے ساتھ قید میں رہنے والے دونوں ساتھیو! تمہارے خوابوں کی تعبیر یہ ہے کہ تم میں سے ایک شخص (جو شراب بنانے والا تھا) قید سے رہا ہو کر بادشاہ کا ساقی بنے گا اور اسے شراب پلائے گا۔ دوسرا شخص (جو روٹیاں لے جانے والا تھا) سولی پر چڑھایا جائے گا اور اس کی لاش کو اس حال میں چھوڑ دیا جائے گا کہ پرندے اس کے سر سے کھائیں گے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ جس معاملے کے بارے میں تم مجھ سے دریافت کر رہے تھے، اس کا فیصلہ صادر ہو چکا ہے اور یہ بات یقینی طور پر رونما ہونے والی ہے۔

یہ تعبیر سن کر دونوں قیدیوں نے کہا کہ ہم نے تو صرف مذاق میں یہ خواب دیکھے تھے، حقیقت میں ہم نے کچھ نہیں دیکھا۔ اس پر حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا: جو فیصلہ میں نے سنا دیا ہے وہ اللہ کے حکم سے طے پا چکا ہے، چاہے تم سچ کہو یا جھوٹ، یہ واقعہ ضرور پیش آئے گا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت کریمہ سے ہمیں یہ عظیم سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی بصیرت اور علم غیب سے آگاہی کا معاملہ کس قدر حیرت انگیز ہوتا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے جب قید خانے میں اللہ کی توحید اور عبادت کی دعوت دی تو اللہ نے انہیں خوابوں کی تعبیر کا علم عطا فرمایا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص اللہ کی اطاعت اور دعوت الی اللہ میں مشغول رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے ایسی حکمت اور بصیرت عطا فرماتا ہے جو عام لوگوں کو حاصل نہیں ہوتی۔

اس واقعے سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ اللہ کا فیصلہ برحق ہے اور اس کی تقدیر کے سامنے ہر شخص کو سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔ چاہے انسان مذاق میں کچھ کہے یا سنجیدگی میں، اللہ کا حکم نافذ ہو کر رہتا ہے۔ یہ ہمارے لیے باعثِ ایمان اور اللہ پر بھروسہ کرنے کی ترغیب ہے کہ ہم ہمیشہ اللہ کے فیصلوں پر راضی رہیں اور اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔

نیز اس آیت میں دعوت الی اللہ کا ایک خوبصورت انداز ملتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے قید جیسی مشکل جگہ میں بھی لوگوں کو اللہ کی توحید کی دعوت دی اور ان کی ضروریات کا خیال رکھا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہر حال میں اللہ کی عبادت اور اس کی دعوت کو اپنا شعار بنائیں اور لوگوں کی بھلائی کے لیے کوشش کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کو کبھی ناکام نہیں فرماتا۔



📜 آیت 39-43 — یوسف

39يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَأَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ
میرے جیل خانے کے رفیقو! بھلا کئی جدا جدا آقا اچھے یا (ایک) خدائے یکتا وغالب؟
40مَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِهِ إِلَّا أَسْمَاءً سَمَّيْتُمُوهَا أَنتُمْ وَآبَاؤُكُم مَّا أَنزَلَ اللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَانٍ ۚ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ أَمَرَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ خدا نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
41يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَمَّا أَحَدُكُمَا فَيَسْقِي رَبَّهُ خَمْرًا ۖ وَأَمَّا الْآخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ الطَّيْرُ مِن رَّأْسِهِ ۚ قُضِيَ الْأَمْرُ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ
میرے جیل خانے کے رفیقو! تم میں سے ایک (جو پہلا خواب بیان کرنے والا ہے وہ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور جو دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھا جائیں گے۔ جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے وہ فیصلہ ہوچکا ہے
42وَقَالَ لِلَّذِي ظَنَّ أَنَّهُ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِي عِندَ رَبِّكَ فَأَنسَاهُ الشَّيْطَانُ ذِكْرَ رَبِّهِ فَلَبِثَ فِي السِّجْنِ بِضْعَ سِنِينَ
اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائے گا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے میں رہے
43وَقَالَ الْمَلِكُ إِنِّي أَرَىٰ سَبْعَ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ يَأْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعَ سُنبُلَاتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ يَابِسَاتٍ ۖ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ أَفْتُونِي فِي رُؤْيَايَ إِن كُنتُمْ لِلرُّؤْيَا تَعْبُرُونَ
اور بادشاہ نے کہا کہ میں (نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور (سات) خشک۔ اے سردارو! اگر تم خوابوں کی تعبیر دے سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
41آیت

ترجمہ — یوسف 41

سورہ یوسف آیت 41 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : میرے جیل خانے کے رفیقو! تم میں سے ایک (جو…

سورہ آیت 41/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 39–43. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں