اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائے گا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے میں رہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
به يكى از آن دو كه مىدانست رها مىشود، گفت: مرا نزد مولاى خود ياد كن. اما شيطان از خاطرش زدود كه پيش مولايش از او ياد كند، و چند سال در زندان بماند.
اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائے گا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے میں رہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
ظَنَّ: اس کا مطلب ہے علم اور یقین۔
نَاجٍ: نجات پانے والا، بچنے والا۔
اذْكُرْنِي: میرا ذکر کرو، میری بات یاد کرو۔
رَبِّكَ: تمہارے سردار یا آقا کے پاس۔
فَأَنسَاهُ الشَّيْطَانُ ذِكْرَ رَبِّهِ: شیطان نے اسے یوسف علیہ السلام کا ذکر اپنے سردار کے پاس کرنا بھلا دیا۔
فَلَبِثَ: پھر وہ ٹھہرے رہے۔
بِضْعَ سِنِينَ: چند سال، یعنی تین سے نو سال کے درمیان (اکثر مفسرین کے نزدیک سات سال)۔
تفسیر:
حضرت یوسف علیہ السلام نے جب خواب کی تعبیر بتائی تو انہیں یقین ہو گیا کہ ساقی (شراب پلانے والا) رہا ہو کر بادشاہ کی خدمت میں واپس جائے گا۔ انہوں نے اس سے کہا: "میرا ذکر اپنے سردار (بادشاہ) کے پاس کرو، اسے بتاؤ کہ ایک مظلوم بندہ بے قصور جیل میں قید ہے، تاکہ وہ میری رہائی کا باعث بنے۔" لیکن شیطان نے اس ساقی کو بھلا دیا کہ وہ بادشاہ سے یوسف علیہ السلام کا ذکر کرے، اور وہ اس بات کو بھول گیا۔ چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام کو اس وجہ سے کئی سال (سات سال) مزید جیل میں رہنا پڑا۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کو صبر اور توکل علی اللہ کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے ایک ذریعہ اختیار کیا، لیکن جب وہ ذریعہ ناکام ہو گیا تو انہوں نے صبر کیا اور اللہ ہی پر بھروسہ رکھا۔ یہ امت کے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ مشکلات میں صبر کریں، اللہ پر بھروسہ رکھیں اور کبھی مایوس نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی مدد ضرور فرماتا ہے، چاہے دیر ہی کیوں نہ ہو۔ اس واقعہ میں یہ بھی پیغام ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے، وہ بھلائی کے کاموں میں رکاوٹیں ڈالتا ہے، اس لیے ہمیں ہر وقت اللہ کی پناہ مانگتے رہنا چاہیے اور نیک کاموں میں جلدی کرنی چاہیے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کو جیل سے نکال کر عزت و سطوت عطا فرمائی، جیسا کہ آگے کی آیات میں آئے گا۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ صبر کا انجام ہمیشہ کامیابی ہے۔
جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ خدا نے ان کی کوئی سند نازل نہیں کی۔ (سن رکھو کہ) خدا کے سوا کسی کی حکومت نہیں ہے۔ اس نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
میرے جیل خانے کے رفیقو! تم میں سے ایک (جو پہلا خواب بیان کرنے والا ہے وہ) تو اپنے آقا کو شراب پلایا کرے گا اور جو دوسرا ہے وہ سولی دیا جائے گا اور جانور اس کا سر کھا جائیں گے۔ جو امر تم مجھ سے پوچھتے تھے وہ فیصلہ ہوچکا ہے
اور دونوں شخصوں میں سے جس کی نسبت (یوسف نے) خیال کیا کہ وہ رہائی پا جائے گا اس سے کہا کہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا لیکن شیطان نے ان کا اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا اور یوسف کئی برس جیل خانے میں رہے
اور بادشاہ نے کہا کہ میں (نے خواب دیکھا ہے) دیکھتا (کیا) ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات خوشے سبز ہیں اور (سات) خشک۔ اے سردارو! اگر تم خوابوں کی تعبیر دے سکتے ہو تو مجھے میرے خواب کی تعبیر بتاؤ
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔